کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 119
ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ ’’شرح العقیدہ الطحاویہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’رافضیت کی بنیادیں ایک منافق زندیق نے رکھی ہیں جس کا مقصد دین اسلام کو ختم کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر تنقید کرناتھا جیسا کہ علماء کرام نے بیان کیا ہے۔ اس لیے کہ جب عبد اللہ بن سبا نے اسلام کا اظہار کیا ؛ تو اپنی خباثت اور مکر کی بنا پر اس کاارادہ دین اسلام ختم کرنے کا تھا۔ جیسے کہ پولس (یہودی) نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ اس نے اپنا عبادت گزار ہونا ظاہر کیا۔ پھر لوگو ں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنے لگا، حتی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی سازش کی، جس کے نتیجہ میں آپ قتل ہوئے …‘‘[1] جدید تحقیق نے بھی یہ بات ثابت کردی ہے کہ رافضیت کی اصل بنیاد یہودیت پر ہے۔ اور اس کا ایجاد کرنے والا ایک مکار اور خبیث یہودی تھا، جس کا ارادہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے عقیدہ میں فساد پیدا کرے اور انہیں صحیح دین سے منحرف کردے۔ عبد اللہ القصیمی (رافضیت کا) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو ذکر کرنے کے بعدلکھتا ہے : ’’اس گمراہی کے بیج بونے والا اور اس کا بیڑا اٹھانے والا عبد اللہ بن سبا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے طلب کیا تھا تاکہ اسے بہت سخت سزا دیں لیکن یہ (بد بخت) کوّے سے زیادہ چوکنا رہتا تھا۔ وہ وہاں سے بھا گ گیا اور وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا۔ اس کا بھاگنا اس خطرناک سازش کو تر ک کرنا اور شکست تسلیم کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ اپنے ان افکار کو مسلمانوں کو گمراہ کرنے، اور فتنہ برپا کرنے، او ر اپنے پلان کو انجام تک پہنچانے کے لیے تھا تاکہ وہ اس کے لیے یہ ملامت و عار اور عذاب نار قیامت تک باقی رہے۔‘‘ اس انسان کے دعوے اور بدعات ہرطرف پھیل گئیں۔ اور اس کی بھیانک اور خطرناک آوازیں اسلامی مملکت میں گونجنے لگیں، جس کے سامنے دل اور کان دھل گئے۔ اور دل اور کان اس کے لیے بہک گئے۔ اور جن چہروں کو اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے لیے پیدا کیا تھا، ان پر یہ آوازیں بار بار حرکت کرنے لگیں۔ اور کئی دوسری زبانیں بھی ان کو بیان کرنے لگیں۔ آوازوں کا یہ تکرار بڑھتا گیا یہاں تک کہ ان دلوں میں گھرکر گیا جو اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکے۔ اور یہی باز گشت ان کے عقیدہ میں شامل ہو گئی۔ حتی کہ یہ ایسا مضبوط عقیدہ بن گیا جس کے لیے خون بہایا گیا۔ اور ان لوگوں نے اہل بیت اور اصحاب سے دشمنی رکھنی شروع کردی ؛ یہاں تک کہ بعد میں یہی لوگ شیعی مذہب سے معروف ہوئے اور یہ شیعہ عقیدہ ٹھہرا۔ ‘‘[2] احمد امین کا کہنا ہے کہ :’’ شیعہ عقائد کئی ایک ادیان سے مل کر بنے ہیں، جن میں یہودیت اور عیسائیت اور
[1] مجموع الفتاویٰ : ۲۸/ ۴۸۳۔ [2] مجموع الفتاویٰ : ۴/ ۴۲۸۔ [3] مجموع الفتاویٰ : ۴/ ۴۳۵۔