کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 112
وقت تک نہ آئے گی جب تک وہ عربوں کو اپنی لاٹھی سے ہانک نہ لیں۔ یہی لوگ سبائی ہیں ؛ جو عبد اللہ بن سبا کے ساتھی ہیں ؛ عبد اللہ بن سبا یمن سے اہل صنعاء کا یہودی انسان تھا۔‘‘[1] ۲۔ الاشعری القمی ( ۳۰۱ ہجری): اپنی کتاب ’’المقالات والفرق ‘‘ میں سبائیت اور ابن سبا کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہتاہے : ’’یہ فرقہ جس کا نام سبائیت پڑ گیا ہے ؛ عبد اللہ بن سبا کے ساتھی ہیں۔یہ شخص ’’عبداللہ بن وہب الراسبی الہمدانی ‘‘ہے۔ ا ور اس کے ساتھ اس مسئلہ میں عبد اللہ بن حرسی اور ابن سوداء نے مدد کی۔ یہ دونوں اجلہ صحابہ میں سے ہیں۔ یہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان ( رضی اللہ عنہم ) پر طعن کیا؛ اور صحابہ سے براء ت کا اظہار کیا۔‘‘[2] ۳۔ النوبختی (تیسری صدی ہجری کا بڑا عالم ): جوفتنے ابن سبا نے ایجاد کیے، ان کے بارے میں بیان کرتا ہے ؛ جیساکہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی امامت فرض ہونے کا قول۔ پھر وہ کہتا ہے :’’ علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک جماعت سے حکایت نقل کی گئی ہے کہ عبد اللہ بن سبا یہودی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کیا اور حضرت علی سے دوستی کرلی۔ جب وہ یہودی تھا تو کہا کرتا تھا کہ یوشع بن نون موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے وصی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ایسی ہی بات کہنے لگا۔‘‘[3] ۴۔الکشی (۳۶۹ ہجری): اس نے عبد اللہ بن سبا کا ذکر کیا ہے۔ اور پانچ روایات اپنے ائمہ تک سند کے ساتھ روایت کی ہیں جن میں ابن سبا سے براء ت ؛ اس پر لعنت اور اس کی مذمت ہے۔ ان میں سے : ابی جعفر سے جو روایت کیا گیا ہے :بے شک انہوں نے فرمایا: ’’عبد اللہ بن سبا نبوت کا دعویدار تھا۔ اور وہ گمان رکھتا تھا کہ حضرت علی علیہ السلام اس کے الٰہ و معبود برحق ہیں۔‘‘ یہ بات امیر المومنین علیہ السلام تک پہنچی تو اسے بلا کر پوچھا ؛ اس نے اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہا : ’’ ہاں !بیشک آپ ہی وہی الٰہ ہیں۔ اور یہ بات مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ بیشک آپ ہی اللہ، معبود برحق ہیں۔ ‘‘ اور بے شک میں نبی ہوں۔ ‘‘ تو امیر المومنین نے اس سے کہا : ’’ تمہارے لیے بربادی ہو، تمہیں شیطان نے مسخر کر لیاہے۔ تیری ماں تجھ پر [1] ابن سبا حقیقۃ لا خیال: ص ۵۔ [2] ابن سبا حقیقۃ لا خیال: ص ۵۔