کتاب: تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 17
کتاب: تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تجدیدی مساعی مصنف: شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پبلیشر: جامع مسجد مکرم اہلحدیث ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ ترجمہ: حافظ شاہد محمود فاضل مدینہ یونیورسٹی تقریظ[1] شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔ محققین کو واقعات کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ پھر مورخین بھی دقتِ نظر، رسوخِ بصیرت، قوتِ استفتاج او رعلمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے، بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملادیتے ہیں، واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے، جو من کو بھائے، خواہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، اس سے تغافل برتتے ہیں اور جو دل کو لگے، خواہ انتہائی بودہ ہو، اس کی تعریف کے شادیانے بجاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح تاریخ کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں اور تحریف اس میں اپنی راہ نکال لیتی ہے۔ یہاں علمی اخلاص سے مالا مال اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لیے شخصی رجحانات [1] ۔ حضرت العلام مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی معروف کتاب”تحریک آزادی فکر“ کا عربی ترجمہ ” حركة الانطلاق الفكري“ کے نام سے محترم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کے قلم سے جامعہ سلفیہ بنارس، انڈیا نے شائع کیا تو اس پر شیخ الحدیث مولانا مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ لکھا، جسے ہم ترجمہ کرنے کے بعد اس طباعت کے شروع میں شاملِ اشاعت کررہے ہیں۔