کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 245
کے پیش نظر یا بالکل شاہ ولی اللہ صاحب کی دعوت ہے جسے ان کے ابناء احفاد نے رواج دیا بلکہ اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف فرمائیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ ان کے تلامذہ اور ان کا خاندان ان الفاظ سے بالا رہ کر وہ فقہی جمود اور تصوف میں جمود کو تورنا چاہتے تھے۔اوروہ اس مہم کو کسی تنفر کے بغیر ذہنوں میں نقش کرنا چاہتے تھے۔ 1246ء جبکہ بالا کوٹ میں ان کی شہادت کا دل فگار واقعہ پیش آیا تو ترک تقلید بالفصد سے وابستگی میں تصادم نہیں ۔ موحدین کے اس شک میں اختلاف خیال تو ہو گا مگر اسے کبھی ابھرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ سانحہ شہادت کے چند ماہ بعد جماعت مجاہدین کے پورے نظم کی ذمہ داری صادق پوری حضرات نے اپنے سر پر لے لی۔ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی وغیرہم نے جہاد اور تبلیغ کے دونوں نظام بڑی کامیابی سے چلائے۔ یہ حضرات شاہ شہید رحمہ اللہ سے زیادہ متاثر تھے۔ اس لئے یہ اتباع سنت کے ساتھ تقلید اور جمود کی حوصلہ افزائی نہیں ہونےدیتے تھے اس لئے 1246ء کا تقلید پسند طبقہ پچھلی صفوں میں چلا گیا۔ یہ حضرات فقہیات پر تنقید فرماتے لیکن فقہاء پر تنقید نہ کرتے۔ ائمہ اربعہ کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کے اجتہادات کے لئے صحیح محل تلاش فرماتے تھے۔ لیکن حنفی نقطہ نظر سے نہیں گھبراتے تھے مگر تقلید اور جمود کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ سید شہید کے بعد مولانا ولایت علی 1269ء میں جماعت کے امیر قرار پائے۔ ان کی کتاب عمل الحدیث اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ مولانا نے فرمایا:۔
"بایددانست کہ انسان اگر عامی باشد و بسبب مشاغل دیگر از نوشت وخواندو دراکتقابر دریافت از علماء نماید برائے آن مناسب این است کہ از علمائے محدثین دیندار کہ دردیانت و خوف خدادانست قرآن و حدیث مشہور شدہ باشند سوال نمائند بایں طور کہ مارادریں مسئلہ طور محمدی تعلیم نمائند واگر مرد طالب علم است و شوق تعلیم دردل وارد مناسب ایں است۔ اول قرآن و حدیث بخواند بعد ازاں بکتب دیگر نظر ہمت گماروتا آئینہ وار ظاہر شود کہ رائے کدام بزرگواردرکدام جاصحاب یافتہ وکجادے خطا دیدہ پس ہر مسئلہ کہ مصرح بقرآن و حدیث یا بددرآں تقلید بہیچ مجتہد نہ کنند کہ در مصرحات اجتہاد را دخلے نیست ص:16"