کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 243
جو اسے رکھ لیا جائے ۔ جس سے اصل نہ ملے اسے دوقول یا دو روایت قرار دے دیا جائے ( ص312 ج 1 ) شاہ صاحب کے ان ارشادات کا آج دیوبند کی دعوت جمود میں کیا ربط ہے ۔ اس پر ارباب فکر کو غور کرنا چاہیے مسلک اہل حدیث کا اجمالا یہی تقاضہ ہے کہ جمود کو قطعا جگہ نہ دی جائے اور نصوص پر نظر رکھی جائے اسی دعوت کا ایک اور مقام پر اس طرح اعادہ فرماتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ حکم صرف اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا ؟ بہت لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچ جاتی ہے لیکن وہ کہتا ہے فلاں مذہب پر عمل کروں گا حدیث پر عمل نہیں کروں گا ۔ پھر یہ خیال کرتا ہے کہ حدیث صرف أئمہ اور ماہرین ہی سمجھ سکتے ہیں أئمہ نے اسی حدیث پر عمل کسی وجہ سے ہی ترک کیا ہوگا منسوخ ہو یا مرجوح ، یقینا جان لو یہ قطعا دین نہیں ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے تو آپ کی اطاعت کرو کسی مذہب کے مطابق ہو یا مخالف ۔ اللہ کی رضا اسی میں ہے کہ اللہ کی کتاب اور سنت پر عمل کیا جائے اگر آسانی سے سمجھ میں آجائے تو بہتر ورنہ پہلے علماء کی رائے سے جو کتاب وسنت کے قریب ہو اس پر عمل کرو ۔ اھ یعنی بلا تعیین ان کے افکار کی اطاعت کی جائے ( تفہیمات ص 215 ج 1 ) الفاظ کی بحث بے سود ہے  حقائق کی وضاحت کے بعد ظاہر ہے کہ مسلک اہل حدیث نے ہندوستان کے مذہبی جمود کے متعلق اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا جس قدر شاہ صاحب نے فرمایا اس کا نام تقلید رکھیے یا ترک تقلید ، حنفی کہیےیا اہل حدیث ۔ اس میں وہ جمود بہر حال نہیں جس کی دعوت آج کل بریلی اوردیوبند سے دی جارہی ہے ۔ مروجہ تقلید کے خلاف اہل حدیث نے اب تک جو کچھ کہا شاہ صاحب کے ارشادات میں وہ پورا مواد موجود ہے ۔ اس کے خلاف اکابر دیوبند یا عظماء بریلی نے جو فرمایا شاہ صاحب کے ارشادات کی روح اس کے خلاف ہے ۔ شاہ صاحب سے عقیدت کے ساتھ جمود اور تقلید کی دعوت بے جوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے ۔ عرصہ ہوا بعض بزرگان دیوبند نے اکتشاف فرمایا کہ حضرت مولانا شہید کا ابتداء میں رجحان ترک تقلید کی طف تھا لیکن حضرت سید احمد صاحب کی تفہیم کے بعد رجحان ختم ہوگیا اور رفع الیدین وغیرہ مسنون اعمال پر شاہ صاحب نے عمل