کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 242
نہیں مانتے۔ اور یہ ظاہری حضرات جوفقہ کےانکاراورفقہاء اور ایمہ دین پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ سب بیوقوف اورغلط کارہیں اورحق ان کے بین بین ہے۔ یہ سب بیوقوف اور غلط کار ہیں اور حق ان کے بین بین ہے ۔
مسلک اہل حدیث بالکل یہی ہے۔ پھرصفحہ211ج1پر فرمایا:۔
واشھدللہ باللہ انه کفرباللہ ان یعتقدفی رجل من الامة ممن یخطی ویصیب ان اللہ کتب علی اتباعه حتماوان الواجب علی ھوالذی یوجبه ھذالرجل علی ولکن الشریعةالحقة قدثبت ھذالرجل بزمان قددعاھاالعلماء ولواھاالرواة وحکمبھاالفقھاءوانمااتفق الناس علی تقلیدالعلماءعلی معنی انھم رواةالشریعة عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وانھم علموامالم نعلم وانھماشتغلوامایعلمواومالم نشتغل ولذالك قلدمماالعلماءفلوانحدیثاصحح وشھدبصحة المحدثون عمل به طوایف فظھرفیھالامرثم لم یعمل به ھولان متبوعھ لم یقل به فھذاھوالضلال البعید۔ 1ھ
اور میں اللہ کے لیے اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ایک ایسے آدمی کے متعلق جس سے خطا اور ثواب سرزد ہو سکتے ہیں یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کی اطاعت فرض ہے جس چیز کو یہ واجب کہے وہ واجب ہے حالانکہ شریعت اس شخص سے پہلے موجود ہے ۔ علماء نے اسے حفظ اور روایت کیا ہے ۔ فقہاء نے اس کے مطابق فیصلے کیے ۔ تقلید کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے کہ علماء شریعت کے راوی ہیں ، وہ جانتے ہیں عوام نہیں جانتے ، علماء نے اسے اپنے مشغلہ قرار دیا کہ عوام ایسا نہیں کر سکتے ۔ اس لیے علماء کی تقلید کی گئی ۔ اب اگر ایک حدیث کی صحت ثابت ہو علماء نے اس عمل بھی کیا ہو اور بات واضح ہو جائے پھر اس پر عمل نہ کیا جائے کہ فلاں امام نے اس پر عمل نہیں کیا یہ سب سے بڑی گمراہی ہے ۔ ایک مقام پر شاہ صاحب نے فرمایا کہ میرے دل میں ملاء اعلی کی طرف سے ڈالا گیا ہے کہ حنفی اور شافعی امت مرحوم میں دونوں مشہور مذہب ہیں ۔ اور اکثر لوگ انہیں دونوں مذہب کے متبع ہیں اکثر فقہاء ، محدثین ، مفسرین ، اور متکلم صوفی شافعی تھے اور عام بادشاہ اور یونان کے لوگ حنفی تھے ۔ اور علماء اعلی کا منشاء یہ ہے کہ ان دونوں کو ایک مذہب قراردیا جائے اور احادیث پر پیش کیا جائے جو موافق