کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 241
جامد تقلیدکے متعلق شاہ صاحب کے جذبات قابل ملاحظہ ہیں ۔
وتری العامة سیما الیوم فی کل قطر یتقیدون بمذھب من مذاھب المتقدمین یرون خروج الانسان من مذھب من قلدہ ولو فی مسئلة کالخروج من الملة کانه نبی بعث الیه و افترضت طاعة علیه وکان اوائل الامة قبل الماَة الرابعة غیر متقیدین بمذهب واحد صفحہ ۱۵۱ جلد ۱ ہر علاقہ کے عوام مروجہ مذاہب میں سے ایک کی تقلید کرتے ہیں ، اسے ترک کرنا ارتداد کے برابر سمجھتے ہیں گویا امام ان کا نبی ہے اس کی اطاعت ان پر فرض ہے چوتھی صدی سے پہلے یہ کیفیت نہ تھی ۔
آج احباب دیو بند غور فرمائیں آپ جس انداز سے تقلید کی دعوت دیتے ہیں ترک تقلید کی مخالفت کرتے ہیں یہ وہی انداز تو نہیں جس کی شاہ صاحب نے شکایت فرمائی ہے ۔
اسی طرح صفحہ ۱۵۲ جلد ۱ میں ایسے محققین کا ذکر فرمایا ہے جو تقلید نہیں کرتے تھے جیسے ابن عربی ، ابو محمد جوینی ۔ تفہیمات صفحہ ۲۰۲ جلد ۲ صفحہ ۲۱۵ جلد ۱ میں فرمایا :
ان امنتم بنبیکم فاتبعوہ خالف مذھبا او وافقه ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے تو ان کی اطاعت کرو مذہب کے خلاف ہو یا موافق ۔
تفہیمات اس قسم کی دعوت سے بھرپور ہے ۔
تفقہ اور ظاہریت
شاہ صاحب کے نزدیک حق تفقہ اور ظاہریت کے بین بین ہے ۔ تفہیمات صفحہ ۲۰۹ جلد ۱
ومنھم انی اقول لھم لاء المسلمین بالفقھاء الجامدین علی التقلید یبلغھم الحدیث عن احادیث النبی صلی اللہ علیه وسلم باسناد صحیح وقد ذھب الیہ جمع عظیم من الفقھاء المتقدمین ولا یمنعھم الا التقلید لمن لم یذھب الیه ولھئو لاء الظاهریة المنکرین للفقھاء الذین ھم طراز حملة العلم وایمة اھل الدین انھم جمیعا علی سفاھة وسخافة والی ضلالة وان الحق امر بین بین
میں ان برائے نام فقہاء سے کہنا چاہتا ہوں جو تقلید جامد کی وجہ سے جن کو صحیح احادیث پہنچتی ہے اور وہ فقہاء کا معمول بھی ہے لیکن وہ اپنے علماء کی تقلید کے سبب اسے