کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 240
طرف نسبت کرایا جاتا ہے اس لیے کہ اس کی تحقیق ان سے موافق ہو جاتی ہے جیسے نسائی اور بیہقی ، لوگ انہیں شافعی کہتے ہیں حالانکہ وہ اہل حدیث ہیں ۔ ۱ ھ
شاہ صاحب نے تفہیمات میں فرمایا : فقہ حنفی و شافعی کو ملا کر کتاب و سنت پر عرض کرنا چاہیے ۔ جو موافق ہو اس پر عمل کیا جائے ۔ ورنہ مختلف فیہ مسائل کو روایات کے طور پر قبول کر لیا جائے ۔ شاہ صاحب عملی فروع میں بھی عموما شوافع کی طرف جھکتے ہیں ۔ آمین بالجہر ، رفع الیدین ، زیارت قبور ، قراءات فاتحہ وغیر ہ ۔ میں شافع مذہب کو راجح سمجھتے ہیں ۔ خیر کثیر میں تو امام شافعی کی عجیب انداز سے تعریف فرمائی ہے ۔
اما المتعقمون فی الراَی فلیسوا من اھل النسة فی شئ واما ھذہ المذاھب الاربعة فاقربھا الی السنة مذھب الشافعی المنقح والمصفی وکان نظرہ تصل الی حقیقة العلل والاسباب ۔ خیر کثیر صفحہ ۱۲۴ رائے اور قیاس میں غالی قسم کے لوگ یہ قطعا اہل سنت نہیں ہیں ۔ اور مذاہب اربعہ سے امام شافعی کا مسلک سنت سے زیادہ قریب ہے ۔ ان کی نظر اسباب و علل پر زیادہ گہری ہے ۔ ۱ ھ
تفہیمات جلد ۲ صفحہ ۲۴۰ پہلے عقائد کا ذکر فرمایا اور تاکید فرمائی ہے ۔ تاویل سے بچ کر مسلک سلف کا اتباع کیا جائے فروع کے متعلق فرمایا ۔
دور فرع پیروی علماء محدثین کہ جامع باشند میان فقہ و حدیث کردن دور تفریعات فقہیہ رابر کتاب و سنت عرض نمودن وآنچہ موافق باشد در حیز قبول آدردن والا کالای بدبریش خاوند دادن امت دا ہیچ وقت از عرض مجتہدات بر کتاب وسنت استفتاء حاصل نیست وسخن منتشفعہ فقہاء کہ تقلید عالمے را دست آویز ساختہ تمبع سنت راترک کردہ اند شنیدن وبدیشان التفات نہ کردن و قربت خدا جستن بدوری ایناں ۱ھ
فروع میں فقہاء محدثین کی پیروی کرنا فقہی جزئیات کو کتاب و سنت پر پیش کرنا موافق کو قبول کرنا مخالف کو پھینک دینا امت کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اجتہادات کو کتاب و سنت پر پیش کریں اور خشک فقیہ جن کے لیے تقلید سے بڑی کوئی دستاویز نہیں ۔ کتاب و سنت کے تتبع کو ترک کیا ہوا ہے ان سے دوری میں خدا کی رضا مندی ہے ۔ ۱ ھ