کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 239
ان میں سے کوئی بھی تقلید اور جمود کا داعی نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان میں تقلید و جمود کے خلاف جو جذبہ اس وقت کار فرما ہے۔اس کے موسس وبانی دراصل یہی مقدس حضرت ہیں رحمۃ اللہ علیم۔ان تمام اعلام کے ارشادات کے تذکرہ سے مضمون اور بھی واضح ہو گا۔ان بزرگوں کے کارنامے اور علمی نوشتے اہل علم کی نظروں سے پوشیدہ نہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ،الانصاف،عقدالجید،الخیر الکثیر،تفہیمات اول وثانی،المقالۃ الوضیۃ اور الانتباہ وغیرہ میں اس موضوع پر اتنا لکھا ہے کہ اس سے زیادہ لکھنا مشکل ہے۔حجۃ اللہ البالغہ ص 124 ج1 اعز بن عبدالسلام سے نقل فرمایا: ومن العجب العجیب ان الفقهاء المقلدین یقف احدهم علی ضعف ما خذ امامه بحیث لا یجد لضعفه مدفعا وهو مع ذالك یقدله فیه ویترك من شهد الکتاب والسنة و........الصحیحة لمذهبهم جمودا علی تقلید امامه بل یحیل لدفع ظاهر الکتاب والسنة ویتاولها بالتاویلات البعیدة الباطلة نضالا عن مقلده وقال لم یزل الناس یسئلون من اتفق من العلماء من غیر تقیید لمذهب ولا انکار علی احد من السائلین الی ان ظهرت هذه المذاهب ومتعصبوها من المقلدین تعجب ہے کہ فقہاء مقلدین کو اپنے امام کے ماخذ کا ضعف بھی معلوم ہو جاتا ہے اور اس کی مدافعت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود اس کی تقیلد کرتا ہے اور ظاہر کتاب وسنت اور قیاس صحیح کو ترک کر دیتا ہے اور کتاب وست کو ٹالنے کے لیے بہانے بناتا ہے کہ اپنے امام کو بچا سکے۔لوگ ہمیشہ حسب اتفاق علماء سے دریافت کرتے رہے یہاں تک کہ مروجہ مذاہب او رمتعصب لوگ پیدا ہو گئے جو امام کو پیغمبر کی طرح سمجھتے ہیں۔ ایک اور مقام پرفرمایا:یہ لوگ دوسرے مسلک کے مفتی سے فتویٰ پوچھنا جائز نہیں سمجھتے اور نہ ہی اقتداء کی اجازت دیتے ہیں۔یہ صحابہ ،تابعین اور قرون اولیٰ کے اجماع کے خلاف ہے۔ص 124ج1 حجۃ اللہ حجۃ اللہ ص 122 ج 1 میں فرمایا: وکان صاحب الحدیث ایضاً قد ینسب الی هذه المذاهب لکثرة موافقة له کالنسائی والبیهقی ینسبان الی الشافعی  طبقات کی کتابوں میں یعنی بعض اہل حدیث علماء کو مروجہ مذاہب کی