کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 238
اگر صحابہ کا کسی مسٓـلہ پر اجتماع ہو تو ہم  بحمداللہ اسے قبول کرتے ہیں۔لیکن جن لوگوں نے تقلید شخصی کی دعوت دی۔ان لوگوں نے اجتماع کی  مخالفت   کی ہے جس طرح مالکیوں نے صرف امام مالک کی تقلید کی۔صحابہٓ تابعین اور تیسری صدی تک کویٓ آدمی نہیں جس نے یہ فعل کیا ہو یا اس کو جائز کہا ہو۔اجماع کے مخالف دراصل دہی لوگ ہیں جو تقلید شخصی کی دعوت دیتے ہیں۔حافظ ابن حزم کی الاحکام،محلیّٰ،الفصل وغیرہ اسی مواد سے بھری پڑی ہیں۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ (768ھ)کے  تجدیدی کارناموں سے ساتویں اور آٹھویں صدی دونوں متاثر تھیں۔شیخ کی آواز مدارس اور ایوان حکومت میں یکساں گونجتی تھی۔شیخ کی تنقید سے حکومت کے دربار لرزتے تھے۔صوفیوں کی خانقاہیں شیخ کے اصلاحی پروگراموں کے سامنے جھکتی تھیں۔غرض شیخ کے اصلاحی کارنامے زندگی کے ان تمام گوشوں پر اثرانداز تھے جن کا دین سے کچھ بھی تعلق تھا۔شیخ کا حلقۂ درس بھی کافی وسیع تھا۔حافظ ابن القیم الجوزی،حافظ جلال الدین المزی،حافظ ذھبی،حافظ عمادالدین ابن کثیر محمد بن احمد عبدالہادی مقدسی وغیرہ کبار ایمۂ امام کے علوم سے مستفیض تھے۔یقیناً شیخ الاسلام کا اثر شیخ کے بعد برسوں قایم رہا ہوگا۔ شیخ الاسلام کے تلامذہ سے ابن القیم ، ان کے تلامذہ سے شیخ محمد بن یعقوب فیروزآبادی (؁817ھ) صاحب قاموس ان کے تلامذہ سے حافظ ابن حجر (858ھ) احمد بن علی المقریزی (845ھ) المورخ ایسے ایمہ کو ان سے استفادہ کا موقع ملا ۔ پھر حافظ ابن حجر کے تلامذہ میں یہ (اثر قائم رہا اور تحقیق کی یہ شمع جلتی رہی ۔ اور جمود کا اثر غالب نہ ہوسکا گود دنوں نظریات میں تصادم کے آثار ملتے ہیں ۔ حافظ سیوطی (911ھ) شیخ علی المتقی ( 975ھ)شیخ عبدالوہاب المتقی ، شیخ محمد طاہر ٹبتوی صاحب مجمع البحار اور حضرت شیخ احمد بن عبدالاحد المجدد السرہندی (1034ھ) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی (1245ھ) مرزا مظہر جان جاناں (2218ھ) فاخر الہ آبادی (1264ھ) حضرت شاہ ولی اللہ (1176ھ) شاہ عبدالعزیز (1239ھ) شاہ اسماعیل (1247ھ) شہید رحمۃ اللہ علیہم ماحول کی وجہ سے حنفیت کی طرف معمول رجحان کے باوجود