کتاب: تحریکِ آزادی فکراور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - صفحہ 237
حشوی یا ظاہری کہا جائے تو وہ حشوی یا ظاہری نہیں ہو گا۔ نام کی کچھ حقیقت ہوتی ہے جس پر وہ بولا جاتا ہے: علامہ ابوبکر محمد بن حسن بن فورک(۴۰۶ھ)نے مشکل الحدیث میں ملحدین کے تذکرہ میں تعارف کے طور پر فرمایا:۔ وخصو ابتقبیح ذالك الطائفة التی ھی الظاھرة با لحق لسانا وقھراو علو او امکانا الطاھرہ عقائدھا من شوائب الاباطیل وشوائن البدع والاھواء الفاسدة هی المعروفة بانھااصحاب الحدیث(ص ۳) ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اس گروہ کی تنقیص کرتے ہیں جن کی زبان بیان پر ظاہراً باطناً حق غالب ہے ان کے عقائد بدعات اور اباطیل سے پاک ہیں وہ اصحاب الحدیث کے نام سے مشہور ہین۔ ا ھ۔ اس کے بعد ان کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک جن کا مشغلہ اسانید اور ان کے متون کا ضبط ہے اور دوسرے وہ جو اسباب و علل اور قیاس و نظر سے احادیث میں بحث کرتے ہین۔ ا ھ۔ اسی طرح ابو الفتح محمد بن عبدالکریم شہرستاتی(۵۴۸ھ)نے ملل و النحل میں اسی مکتب فکر کا ذکر فرمایا۔ حافظ ابن حزم اندلسی الظاہری(456ھ)گو ظاہری ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو اہل حدیث شمار فرماتے ہیں تقیلید و جمود پر سختی سے تنقید فرماتے ہیں۔ اپنے وقت کے مالکی علماء و صحابہ کے فروعی اختلافات کے متعلق فرمایا فا اما اجتمعوا علیه فنحن الذین اتبعوا اجما عھم وللہ الحمد کثیرا و انماخالف اجماعھم من دعیٰ الی التقلید انسان بعینه کما فعل ھولاء فی تقلید ھم مالکا دون غیرہ ولم یکن قط فی الصحابة ولافی التابعین ولا فی القرن الثالث و احد ممافوقه فعل ھذا الفعل ولا اباحہ لفاعل ا ھ التعنیف ص۸۹