کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 91
اب مسلک کی حمایت کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیے اور وہ یہ ہے کہ قاری صاحب موصوف جس بات کا مجھے طعنہ دے رہے ہیں کیا ان کا اپنا دامن اس سے بچا ہوا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ قاری صاحب ایک مجلس کی تین طلاق کے تین واقع ہونے کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے‘ بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قیاس ہے ہمارے اس دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ جب کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے یا مسلک اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک میں اختلاف ہوگا، تو احناف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کو کبھی درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ہمیشہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کو قبول کریں گے اور اسی کی تائید کریں گے۔ مثلا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں مسلمانوں کو حج تمتع سے روکتے تھے۔ (ـمسلم کتاب الحج) جبکہ احناف حج تمتع کو جائز ہی نہیں، بلکہ بہتر سمجھتے ہیں‘ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ جہری نمازوں میں دعائے استفتاح بلند آواز سے پڑھنے کے قائل تھے اور کبھی کبھی پڑھا بھی کرتے تھے۔ (مسلم کتاب الصلوۃ باب من قال لا یجہر بالبسلمۃ) مگر احنا ف اسے درست نہیں سمجھتے۔ ان مثالوں سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ قاری صاحب موصوف حضرت عمرؓ کی آڑ میں حقیقتاً اپنے ہی مسلک کی حمایت فرما رہے ہیں۔ تقلید کی برکات: حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں آج تک جو اختلاف چلا آرہا ہے‘ اور یہ اختلاف آئندہ بھی ختم ہوتا نظر نہیں آتا، تو اس کی اصل وجہ محض تقلید ہے۔ یہ تقلید ہی کے کرشمے ہیں کہ کتاب و سنت کے اتنے واضح اور صحیح دلائل کے باوجود آج تک یہ مسئلہ اختلافی ہی بنا ہوا ہے۔ اور اگر کوئی صاحب ذرا بالغ نظری سے کام لیں تو انہیں تقلید چھوڑنے کا طعنہ دیا جاتا ہے اور ’’تمسک بالتقلید‘‘ کی تلقین کی جاتی ہے۔ تطلیق ثلاثہ کے موضوع پر احمد نگر میں جو سیمینار منعقد ہوا‘ اس میں مولانا سید احمد صاحب عروج قادری مدیر ماہنامہ ’’زندگی‘‘ (رام پور) نے اس مسئلہ میں صرف اتنی لچک دکھائی کہ: ’’جو شخص تین طلاقیں ایک ہی دفعہ دے دے‘ مگر بعد میں یہ کہہ دے کہ اس کی نیت