کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 81
واقع ہوں گی اور ایک یہ ہے کہ ایک ہی واقع ہو گی۔ اور یہی بات زیادہ صحیح ہے جس پر کتاب و سنت دلالت کرتے ہیں۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ ج۲ ص۸۷ بحوالہ مقالات ص۶۶) ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’سلف اور خلف میں مالک رحمۃ اللہ علیہ ‘ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور دائود رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب میں سے ایسے حضرات تھے جو تطلیق ثلاثہ کو یا تو لغو قرار دیتے تھے، یا پھر اس سے ایک طلاق رجعی داقع کرتے تھے اور یہی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ سے بھی منقول ہے۔‘‘ (فتاوی امام ابن تیمیہؒ ج۴ ص۱۵۱ بحوالہ مقالات ص۸۱) (۶) امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ : ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تالیف ’’اعلام الموقعین‘‘ میں تطلیق ثلاثہ کو ایک قرار دینے والوں کی جو فہرست دی ہے وہ اس طرح ہے: (۱) صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین سے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف‘ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ۔ (۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دونوں طرح کے فتوے منقول ہیں۔ (۳) بعد کے ادوار میں حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ ‘ طائوس رحمۃ اللہ علیہ ‘ محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ ‘ خلاص بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ ‘ حارث عکلی رحمۃ اللہ علیہ ‘ دائود بن علی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اکثر ساتھی‘ بعض مالکی‘ بعض حنفی۔ جیسا کہ ابوبکر رازی اسے محمد بن مقاتل سے روایت کرتے ہیں۔ بعض حنبلی‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے دادا عبدالسلام حرانی رحمہم اﷲ! (اعلام الموقعین اردو ص۷۹۹ اور ۸۰۳) اور ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس مسئلہ میں دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک تو وہی جو مشہور ہے، دوسری یہ کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک رجعی ہوتی ہے۔ جیسا کہ محمد بن مقاتل رازی رحمۃ اللہ علیہ نے