کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 75
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کارنامہ: آگے چل کر قاری صاحب نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کیا تھا کہ عام طور پر لوگ جب اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتے تو حاکم یا قاضی کے سامنے آکر کہتے کہ میں نے تو تین طلاق کی نیت نہیں کی تھی، بلکہ آخری الفاظ تاکید کے لیے استعمال کئے تھے۔ اور حیلہ کر کے اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ ہم فیصلہ نیت پر نہیں کریں گے۔ بلکہ ظاہر الفاظ پر کریں گے۔ جس نے مجلس واحد میں تین طلاقیں دیں تو ہم وہ تین ہی شمار کریں گے۔‘‘ (ایضاً ص۳۰۷) اب دیکھیے قاری صاحب پہلے یہ فرما چکے ہیں کہ دور نبوی اور دور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی تھیں۔ یہ کام تو پہلے ہی ہو رہا تھا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا کارنامہ سر انجام دیا اور کیا قانون نافذ فرمایا تھا؟ قاری صاحب کے ان دونوں بیانوںمیں مطابقت کی صورت تو یہی ہو سکتی ہے کہ درمیان میں حاکم یا قاضی کا رابطہ جب قائم ہوا تو وہ لوگوں کی حیلہ بازی پر اعتماد کرتے ہوئے دور نبوی صلی اللہ وسلم اور دور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین کے فیصلہ کے علی الرغم ان کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرنے کی چھوٹ دے دیا کرتے تھے اور جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا قانون نافذ کیا تھا تو یہ عوام کی اصلاح کے لیے نہیں‘ بلکہ ایسے ترس کھانے والے حاکم یا قاضیوں کی تنبیہ کے لیے بنایا گیا جو لوگوں کی نیت پر یا حیلہ بازی پر اعتماد کر کے تین طلاق کو ایک بنا دیا کرتے تھے۔ جو کچھ بھی تھا، یہ بات بہرحال قاری صاحب نے تسلیم فرمالی کہ لوگ تو تین طلاق ہی دیا کرتے تھے‘ مگر حاکم یا قاضی ان کو ایک بنا دیا کرتے تھے۔ اب اگر ہم یہی بات کہیں جو قاری صاحب نے تسلیم فرمائی ہے تو قاری صاحب برا منا جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ نہیں ایسا کب ہوتا تھا، وہ تو دور نبوی صلی اللہ وسلم میں بھی اور دور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین میں بھی ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار کرتے تھے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ