کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 41
ہیں (۱) حیض کی حالت میں طلاق دینا اور (۲) ایسے طہر میں طلاق دینا جس میں مباشرت کر چکا ہو۔ قاری صاحب کے نزدیک طلاق کی صورت: عدت و طلاق کے ان احکام و مسائل کی تفصیل کے بعد اب ہم قاری عبدالحفیظ صاحب سے مخاطب ہوتے ہیں جن کے نزدیک: (۱) قرآن مجید میں ’’اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ …فَاِنْ طَلَّقَہَا‘‘ سے طلاق کی وہ قسم ثابت ہوتی ہے جس کو احناف کے علاوہ مالکیہ اور حنابلہ بھی بدعی طلاق سمجھتے ہیں۔ (۲) اگر ’’ف‘‘ کی بجائے ’’ثم‘‘ ہوتا تو طلاق کی وہ قسم ثابت ہوتی جسے احناف تو ’’حسن‘‘ کہتے ہیں اور موالک ’’بدعی مکروہ‘‘۔ (۳) اور حسن طلاق کا قرآن میں اشارہ تک نہیں ملتا، یہ وہ طریقہ ہے جسے احناف تو ’’احسن‘‘ کہتے ہیں اور باقی ائمہ بھی اسے سنت کے مطابق طلاق سمجھتے ہیں۔ یک بارگی تین طلاق کی کراہت و حرمت کے قرآنی دلائل: اگرچہ یہ بات متنازعہ فیہ نہیں ہے کہ یکبارگی تین طلاق دے دینا بدعت‘ حرام اور کار معصیت ہے۔ تاہم اس مسئلہ کو کتاب و سنت سے واضح کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ ہمارے علمائے احناف بجائے اس کے کہ اس کار معصیت کی حوصلہ شکنی کریں‘ یکبارگی تین طلاق کے وقوع کو ثابت کرنے کے شوق میں اس کی بھرپور حوصلہ افزائی فرما رہے ہیں۔ لہٰذا ہم یہاں ایسے دلائل پیش کریں گے جن سے یہ ثابت ہو کہ اگر ایک سے زیادہ طلاقوں کا موقع بن جائے تو بھی طلاقیں متفرق طور پر ہی دینا چاہئیں اور ان کے درمیان وقفہ انتہائی ضروری ہے۔ (پہلی دلیل ) طلاقوں کے درمیان وقفہ : ’’اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‘‘ اور اس کے فورا بعد ’’فَاِمْسَاكُٗ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیحُٗ