کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 280
دعوے دار بلا تحقیق ہی انکار کی روش پر چلتے ہوئے قابلِ احترام بزرگوں کے استہزا میں ذہنی تسکین کا سامان پا رہے ہیں !! اﷲ تعالیٰ ایسی معاندانہ ذہنیت سے معاف رکھے،تلاشِ حق کی توفیق دے اور علماے حق کی توقیر کا حوصلہ نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین۔[1]  استدراک محدثِ کبیر پر ایک نظر ذیل میں محترم جناب ڈاکٹر عین الحق قاسمی کے’’محدث’‘بنارس(نومبر ۱۹۹۸ء)میں تحریر کردہ مضمون’’استدراک محدثِ کبیر پر ایک نظر’‘کے چند اہم اقتباسات ملاحظہ کریں : ’’مذکورہ بالا استدراک[2] کے ضمن میں جو تحقیقات پیش کی گئی ہیں،ان سے مولانا محمد عبدالرحمن محدث مبارکپوری کی شان پوری طرح مجروح ہوتی ہے اور بے بنیاد بات لکھنے کا الزام عائد ہوتا ہے،جس کا تصور ایک عالم با عمل محدث کی ذات سے نہیں کیا جا سکتا ہے،تاہم اس سے جو شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں اور مغالطے پیدا ہوں گے،ان کا تدارک مشکل ہوجائے گا،پھر’’کثرتِ ظن’‘اور اس کے نتیجے میں اثم و گناہ لازم ہوگا،جیسا کہ عام طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ذرا سی غفلت اور بے [1] ہفت روزہ’’الاعتصام’‘لاہور(شمارہ: ۲۹،جلد: ۵۲۔۴؍اگست ۲۰۰۰ء) [2] یہ مجلہ’’المآثر’‘کے شمارہ مئی،جون،جولائی ۱۹۹۸ء میں شائع شدہ ڈاکٹر مسعود اعظمی کے مضمون’’استدراکات محدثِ کبیر’‘کی طرف اشارہ ہے،جس کا ذکر گذشتہ مضمون میں تفصیل سے ہوچکا ہے۔