کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 275
کے پاس موجود ہے۔[1] مولانا عبد السلام مبارکپوری صاحب نے’’سیرۃ البخاري’‘میں بھی اس فہرست کا ذکر کیا ہے۔[2] اس فہرست پر’’الأوسط لابن المنذر’‘کے محقق ڈاکٹر صغیر احمد[3] اور’’معجم المصنفات’‘کے مولفین نے اعتماد کیا ہے۔[4] بفضل اﷲ اس فہرست کا وجود محدث مبارکپوری کی معلومات کا ٹھوس ثبوت ہے،جب کہ ناقدین کے لیے باعثِ نصیحت،کہ کسی محدث پر بے جا اعتراضات سے پہلے ان کی ذکر کردہ معلومات کے بارے خود تحقیق کریں یا ان کے ماخذ تک رسائی پا کر جانچ پڑتال کریں۔اس کے بعد واقعتا قابلِ گرفت کوئی بات نظر آئے تو ضرور علمی انداز میں اس کی خبر لیں۔یہ آپ کا حق ہے،لیکن اپنی کم علمی اور اعلیٰ ذوقِ تحقیق کے بجائے تقلید کے کورے ذوق زیست کی بنیاد پر تنقید کرنے اور مضامین لکھنے کا رجحان علمی دنیا میں باعث شرمندگی ہوتا ہے،جیسا کہ ان فہارس کی دریافت سے محدث مبارکپوری کے ان’’محسنین’‘کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اے کاش! لوگ تقلید کے تساہل پسند رجحان کو اپنانے کے بجائے تحقیق کے فعال رویے کے خوگر ہوتے تو یوں شرمندگی نہ ہوتی۔ جرمنی میں بعض نادر و نایاب کتب کی نشاندگی کے مجرم اکیلے محدث مبارکپوری ہی نہیں ہیں،بلکہ ان کے ساتھ بروکلمان اور دورِ حاضر کے نامور مسلم محقق فؤاد سزگین بھی اپنی عظیم کتاب’’تاریخ التراث العربي’‘میں نادر و نایاب اور قدیم کتب کی [1] ’’محدث’‘بنارس،نومبر ۱۹۹۸ء(ص: ۲۶) [2] مولانا عبد السلام مبارکپوری: سیرۃ البخاري(ص: ۲۱۴،حاشیہ)فاروقی کتب خانہ،ملتان،۱۹۸۸ء۔ [3] أبو بکر محمد بن إبراھیم المنذر النیسابوري: الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف،تحقیق: الدکتور صغیر أحمد بن محمد حنیف(ص: ۲۱)الریاض،۱۴۰۵/ ۱۹۸۵ء۔ [4] أبو عبیدۃ مشہور بن حسن بن سلمان و أبي حذیفۃ رائد بن صبری: معجم المصنفات الواردۃ في فتح الباري(ص: ۱۲۲)الریاض،۱۴۱۲ھـ/ ۱۹۹۱ء۔