کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 27
(مقدمہ شرح سنن الترمذي شیخ أحمد شاکر: ۱/۱۲) میں نے تحفۃ الاحوذی کا مطالعہ کیا ہے اور اس کا مقدمہ بھی پڑھا ہے۔میری رائے یہ ہے کہ شروحِ حدیث میں محدثانہ طریق پر فتح الباری کے انداز پر تحفۃ الاحوذی سے بہتر شرح میری نظر سے نہیں گزری۔[1] مولانا عبد الرحمن محدث مبارک پوری رحمہ اللہ اپنے وقت کے بہت بڑے مفسر،محدث،مورخ،محقق،مفتی،مدرس،ادیب،نقاد اور عربی و اردو کے مصنف تھے۔اللہ تعالیٰ نے انھیں علم و عمل کی غیر معمولی بصیرت عطا فرمائی تھی۔زہد و ورع،تقویٰ و طہارت،حسنِ عمل اور حسنِ اخلاق کا پیکر تھے۔ مولانا حبیب الرحمن قاسمی نے مولانا مبارک پوری کے علم و فضل اور تبحرِ علمی کے بارے میں بالکل صحیح لکھا ہے: ’’مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل سے بھرپور نوازا تھا۔دقتِ نظر،حدتِ ذہن،ذکاوتِ طبع اور کثرتِ مطالعہ کے اوصاف و کمالات نے آپ کو [1] حضرت میاں صاحب کے شاگردوں کے سلاسل ہیں۔مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی،جو مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی کے شاگرد اور مولانا کھنڈیلوی حضرت مبارک پوری کے فیض یافتہ تھے۔مولانا عطاء اللہ صاحب نے سنن نسائی کی شرح’’التعلیقات السلفیۃ‘‘(عربی)تالیف فرمائی۔ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ(المتوفی ۲۰۰۸ء)جو حضرت حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے مستفیض تھے اور حضرت محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ حضرت الامام مولانا سید عبد الجبار غزنوی رحمہ اللہ کے فیض یافتہ تھے۔مولانا جانباز نے سنن ابن ماجہ کی شرح’’إنجاز الحاجۃ’‘لکھی ہے،جو ۱۲ جلدو ں میں مطبوع ہے۔محی السنہ سید نواب صدیق حسن خاں(المتوفی ۱۳۰۷ھ)نے خدمتِ حدیث میں عربی،فارسی اور اردو میں ۳۳ کتابیں تالیف فرمائیں : حدیث کی مشہور کتاب’’بلوغ المرام من أدلۃالأحکام’‘کی دو شرحیں’’مسک الختام‘‘(فارسی)اور’’فتح العلام‘‘(عربی)لکھیں اور’’الروض البسام’‘کے نام سے اس کا اردو میں ترجمہ کیا۔’’الجامع الصحیح للبخاري’‘کی شرح بہ نام’’عون الباري’‘اور صحیح مسلم کی شرح’’السراج الوہاج’‘لکھی۔(عبد الستار حامد)