کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 269
(مذکورہ بالا عربی خط کا اردو قارئین کے لیے ترجمہ کیا جا رہا ہے) ’’آج صبح مجھے آپ کا خط تحریر کردہ ۹۲/۰۴/۲۸ موصول ہوا۔شاید یہ مئی کے بجائے اپریل غلطی سے لکھا گیا ہے۔ میں اس خط کے مضمون سے حیران و پریشان ہوا،تاہم حق کو واضح کرنے والے اس موقع کے مہیا کرنے پر آپ کا شکر گزار ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ استاذنا الکبیر محمد سعید خطیب اوغلی کو یہ سہو اور دھوکا کہاں سے لگ گیا ہے؟ میں نے فاضل(ذات)عبد الرحمن مبارکپوری کے بارے میں میری طرف منسوب جوابات کو بار بار پڑھا(لیکن)یہ اسلوب میرا اسلوب ہی نہیں اور نہ ہینڈ رائیٹنگ میرا ہینڈ رائیٹنگ ہے اور نہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عمر بھر کوئی ایسی شے لکھی ہو۔ ہمارے(محترم)پروفیسر خطیب اوغلی سے میری گزارش ہے کہ وہ تحقیق فرمائیں کہ آیا جوابات والا خط میرا ہی ہے؟ شاید انھیں التباس ہو گیا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے خط کو انھوں نے میرا خط سمجھ لیا ہے۔ بلاشبہہ فاضل(شخصیت)عبد الرحمن مبارکپوری اہلِ علم کے درمیان معروف ہیں اور آپ کی علمِ حدیث(اور علومِ اسلامیہ)کے لیے ناقابلِ اعتراض خدمت ہے۔میں اﷲ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ محترم مبارکپوری صاحب کے بارے میں میری طرف منسوب آرا قطعاً ان تک نہیں پہنچ پائیں گی۔میں تو ان کا بھرپور احترام کرتا ہوں۔ان کے بارے میں میری طرف منسوب آرا قطعاً میری نہیں ہیں۔اﷲ تعالیٰ مجھے اس سے محفوظ رکھے۔ ہمارے(محترم)پروفیسر خطیب اوغلی کو میرا سلام ہو اور آپ تمام تر عافیت میں زندگی بسر کریں۔‘‘