کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 265
سے جناب ڈاکٹر عین الحق قاسمی نے ایک تنقیدی جائزہ لیا ہے۔[1] یہ جائزہ اپنی جگہ پر بہت اہم ہے،لیکن ہمارے پاس اس حوالے سے ڈاکٹر حمید اﷲ صاحب آف پیرس کے دو اہم خطوط اور کچھ مزید معلومات ہیں،جن کی بنا پر ہم یہ تحقیقی جائزہ پیش کر رہے ہیں۔ مذکورہ بالا منقول طویل اقتباس سے عیاں ہے کہ ڈاکٹر حمید اﷲ کے نام پر محدثِ دوراں شارح ترمذی صاحب تحفۃ الاحوذی مولانا محمد عبد الرحمن مبارکپوری کی محدثانہ حیثیت گھٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس طرح محدث مبارک پوری کو بے بنیاد معلومات مہیا کرنے والے محقق ظاہر کیا گیا ہے اور ان کی تحقیقات علمیہ کو بالکل ناقابلِ اعتماد ٹھہرایا گیا ہے۔اس صورتِ حال میں یہ امور تحقیق طلب ہیں : 1۔کیا ڈاکٹر حمید اﷲ صاحب محدث مبارک پوری کے بارے میں واقعتا ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں ؟ 2۔کیا محدث مبارک پوری مقدمہ تحفۃ الاحوذی میں کتبِ حدیث کے بارے میں بے بنیاد معلومات کے دریا بہانے والے ہیں ؟ راقمِ سطور کو ۹۴۔۱۹۸۹ کا پانچ سالہ عرصہ ترکی میں گزارنے کا موقع ملا ہے۔اس دوران میں انقرہ یونیورسٹی،انقرہ میں پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید خطیب اوغلی کی زیر نگرانی’’برصغیر میں خدماتِ حدیث شاہ ولی اﷲ سے لے کر دورِ حاضر تک’‘کے عنوان پر بزبان ترکی مقالہ برائے ڈاکٹریٹ(P.H.D)تیار کیا ہے،جو استنبول سے مطبوع ہے۔[2] [1] یہ مضمون بھی اگلے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں۔ [2] k.ZAFARULLAH DAUDI, Sah Veliyyullah Dehlivi, Den Gunumuze Pakistan ve Hindistan'da Hadis Calismalari, Insan yayinlair, Istanbul. 1995۔