کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 264
لکھا ہے کہ’’واللّٰه أعلم بحقیقتہ’‘یعنی اس قول کی حقیقت اﷲ ہی بہتر جانتا ہے۔پھر اس پر مزید حاشیہ آرائی کرتے ہوئے مولانا حبیب الرحمن اعظمی لکھتے ہیں : ’’قد سألت الدکتور حمید اللّٰه المقیم بباریس عن حقیقۃ ما ذکرہ المبارکفوري من وجود صحیح ابن خزیمۃ وغیرہ في ألمانیا فنفیٰ وجودھا ھناک بتاتا،وشدد النکیر علی قائل ذلک‘‘ ’’مولانا مبارکپوری نے جو صحیح ابن خزیمہ اور اس کے علاوہ دیگر کتابوں کی جرمنی میں موجودگی کا ذکر کیا ہے،تو اس کی حقیقت کے بارے میں مَیں نے ڈاکٹر حمید اﷲ مقیم پیرس سے دریافت کیا تو انھوں نے ان کی وہاں موجودگی کی نفی کی اور اس کے قائل پر سخت نکیر کی۔‘‘ ڈاکٹر حمید اﷲ کے خط تحریر کردہ ۱۳/ صفر ۱۳۸۱ ہجری کی عبارت یہ ہے: ’’جرمنی کے نوادر آپ کے راوی صاحب کے ذہن مبارک کی پیداوار ہیں۔ذکر کردہ چاروں کتابیں جرمنی تو کیا سارے یورپ میں کہیں نہیں۔‘‘ ’’ڈاکٹر حمید اﷲ صاحب نے جن چار کتابوں کی موجودگی سے انکار کیا ہے،وہ مولانا مبارکپوری کی ذکر کردہ صحیح ابن خزیمہ کے علاوہ صحیح ابن حبان،صحیح ابو عوانہ اور صحیح ابن السکن ہیں۔اسی طرح ڈاکٹر مصطفی اعظمی نے صحیح ابن خزیمہ کے جرمنی والے مخطوط کے بارے میں مولانا مبارکپوری کے قول کو’’کلام غیر دقیق‘‘[1] کہا ہے۔‘‘[2] اس اقتباس کے حوالے سے’’استدراک محدثِ کبیر پر ایک نظر‘‘[3] کے عنوان [1] صحیح ابن خزیمۃ،تحقیق و تعلیق الدکتور مصطفیٰ الأعظمي(ص: ۲۳،مقدمہ)بیروت ۱۳۹۰ھ۔ [2] بحوالہ’’محدث’‘بنارس،نومبر ۱۹۹۸ء(ص: ۲۴) [3] ڈاکٹر عین الحق قاسمی:’’استدراک محدث کبیر پر ایک نظر‘‘،’’محدث’‘بنارس،نومبر ۱۹۹۸ء(ص: ۲۴ تا ۲۷)مورخہ ۲۵؍ جون ۲۰۰۰ء کو محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب(ممبر اسلامی نظریاتی کونسل)کی خدمت میں ادارہ علومِ اثریہ(منٹگمری بازار،فیصل آباد)حاضر ہوا۔دورانِ ملاقات آپ نے’’محدث’‘بنارس کے اس مقالے کی فوٹو کافی عطا فرمائی اور اس کا جائزہ لینے کی تاکید کی۔بہ طورِ تعمیل یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں۔