کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 261
استدراک محدث مبارک پوری اور ان کے ناقدین (ایک تحقیقی جائزہ) ڈاکٹر خالد ظفر اﷲ[1] محدث زماں،شارح ترمذی،صاحب تحفۃ الاحوذی ابو العلیٰ محمد عبد الرحمن بن عبد الرحیم مبارکپوری ۱۲۸۳ھ / ۱۸۶۶ء میں مبارکپور(اعظم گڑھ)میں پیدا ہوئے اور ۱۶/ شوال ۱۳۵۳ھ/ ۲۲/ جنوری ۱۹۳۵ء میں مبارک پور ہی میں وفات پائی۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی،پھر مولانا فیض اﷲ(۱۳۱۶ھ/ ۱۸۹۸ء)،سید نذیر حسین دہلوی(۱۳۲۰ھ/ ۱۹۰۵ء)،سلامت اﷲ جیراج پوری(۱۳۲۳ھ/ ۱۹۰۵ء)،عبداﷲ غازی پوری(۱۳۲۳ھ/ ۱۹۰۵ء)اور قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی یمانی(۱۳۲۷ھ/ ۱۹۰۹ء)جیسے اساتذہ کرام سے عقلی و نقلی علوم کی تحصیل کی۔ محدث مبارکپوری،شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی سے حاصل کردہ سندِ حدیث کو سرمایہ حیات سمجھتے تھے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد مبارک پور واپس آکر’’دار التعلیم’‘نامی مدرسے کا احیا کیا اور تعلیم و تعلم کا آغاز کر دیا۔کچھ عرصہ اپنے استادِ محترم مولانا عبداﷲ غازی پوری کے حکم پر مدرسہ احمدیہ،آرہ میں تعلیم دی،پھر مدرسہ دار القرآن والسنۃ کلکتہ میں بھی کچھ عرصہ تدریسی ذمے داریاں ادا کیں۔ اس کے بعد کسی مدرسے میں پڑھانے کے بجائے گھر بیٹھ کر تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے۔اس بارے اپنے عزم میں اتنے پختہ تھے کہ دار الحدیث دہلی میں تدریسِ حدیث کی دعوت قبول کی نہ سعودی حکومت کی دعوت پر وہاں جانا قبول کیا۔ [1] ایسوسی ایٹ پروفیسر،صدر شعبہ علوم اسلامیہ،گورنمنٹ کالج سمندری،فیصل آباد