کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 160
یعنی یہود و نصاریٰ نے اپنے تعلیم یافتہ اور پیر و مرشد حضرات کو سوائے اللہ تعالیٰ کے رب بنا رکھا ہے۔ ان کا یہ رب بنانا صرف تورات و انجیل کے خلاف اپنے مولویوں اور درویشوں کی حرام و حلال میں تقلید ناسدید کرنا تھا،جیسا کہ ترمذی وغیرہ کتبِ حدیث میں تفصیلاً اس کا بیان ہے۔علاوہ ازیں تقلیدِ شخصی کی صراحتاً تردید خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے: عن معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه عن النبي صلي اللّٰه عليه وسلم قال:((لاتقلدوا العالم دینکم)) ’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین میں کسی عالم کی تقلید مت کرو۔‘‘(طبراني في الأوسط) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’لا یقلدن أحدکم دینۃ‘‘ ’’دین میں کوئی شخص کسی کی تقلید نہ کرے۔‘‘(مجمع الزوائد: ۱/۲) علاوہ دوسرے دلائل کے اس حدیث مرفوع اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی تقلیدِ شخصی کی حرمت صریح طور سے معلوم ہو گئی۔ پس کہاں ہیں وہ برادرانِ احناف جو تقلیدِ شخصی کا ثبوت حدیث و قرآن سے دینے کے مدعی ہیں ؟ وہ دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فیضِ ترجمان سے اس کی حرمت و مخالفت ثابت ہو گئی۔‘‘(خاتمہ اختلاف،ص: ۱۷۔۱۸) وفات: مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ نے ۲ ربیع الاول ۱۳۸۲ھ بمطابق ۴ اگست ۱۹۶۲ء ہفتہ کے دن اوکاڑہ میں انتقال فرمایا۔إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ان کی نمازِ جنازہ حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ نے پڑھائی اور اوکاڑہ ہی میں سپرد خاک کیے گئے۔اللّٰہم اغفرلہ وارحمہ و اجعل مثواہ الجنۃ الفردوس۔