کتاب: تذکرہ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 112
میں سے تھے۔۲۴ یا ۲۵ شوال ۱۲۵۲ھ کو آپ کی ولادت ہوئی۔ابتدائی تعلیم اپنے وطن مچھلی شہر میں ایک بزرگ میاں جی فصیح الدین غوری رحمہ اللہ سے حاصل کی۔درسیات کی کتابیں اپنے چچا مولانا عبد الشکور سے پڑھیں۔اس کے بعد حدیث کی تحصیل مولوی محبوب علی جعفری(المتوفی ۱۲۹۰ھ)،مولانا شیخ محمد تھانوی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۲۹۶ھ)اور مولانا نواب مصطفی خاں شیفتہ دہلوی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۲۸۶ھ)سے کی۔مولانا سخاوت علی عمری جون پوری رحمہ اللہ(المتوفی ۱۲۷۴ھ)سے بھی استفادہ کیا۔جب اپنے چچا مولانا عبد الشکور صاحب کے ساتھ حج کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے تو وہاں آپ نے مسند الوقت شیخ عبد الحق محدث بنارسی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۲۷۸ھ)،مولانا شیخ عبد الغنی مجددی مدنی رحمہ اللہ(المتوفی ۱۲۹۵ھ)اور شیخ محمد العظام سے بھی حدیث کی سند و اجازت حاصل کی۔شیخ عبد الحق محدث بنارسی رحمہ اللہ کی شاگردی پر آپ کو بہت زیادہ ناز تھا۔ ۱۲۹۰ھ میں مدرسہ کالج کلکتہ کا امتحان پاس کیا اور قیام کلکتہ میں آپ کو قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ نے کوٹ آف سول جسٹس کا امتحان بھی پاس کیا تھا۔۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد کچھ عرصہ گورنمنٹ کی ملازمت بھی کی،مگر بہت جلد اس سے کنارہ کش ہو گئے۔ بھوپال کے قاضی القضاۃ مولانا زین العابدین کا انتقال ہو گیا تو نواب شاہجہان بیگم صاحبہ سریر آئے سلطنت ہوئی تھیں،لیکن ریاست کے امور آپ کے شوہر نامدار حضرت مولانا نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ(المتوفی ۱۳۰۷ھ)انجام دے ہے تھے۔اسی دوران میں مولانا شیخ محمد بن عبد العزیز بھوپال تشریف لے گئے تو حضرت والا جاہی نواب صدیق حسن خان نے آپ کو بھوپال کا قاضی القضاۃ مقرر کر دیا۔مولانا محمد بن عبد العزیز ۱۲۹۰ھ تا ۱۳۰۲ھ بھوپال کے قاضی القضاۃ رہے۔ اخلاق و عادات کے اعتبار سے مولانا قاضی محمد اوصاف حمیدہ کے حامل تھے