کتاب: تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں - صفحہ 65
دکھاتے ہیں،مگر کام خوشی کے کرتے ہیں۔اس لیے متبع سنت آدمی کا فرض ہے کہ اس مہینے کی جملہ رسومات کو یک قلم روکنے کی کوشش کرے۔ محرم کے کربلائی واقعات نے جس قدر شہرت حاصل کی ہے،دوسرے واقعات تاریخیہ اس قدر شہرت نہیں پاسکے۔ابتدا میں تو اس شہرت کی غرض وغایت سیاست عباسیہ تھی،جسے بنو امیہ کو مغلوب کرنا مقصود تھا۔اس کے بعداس نے فرقۂ شیعہ کے ذریعہ مذہبی رنگ اختیار کیا،جس میں زمین وآسمان کے وہ قلابے ملائے گئے کہ بے ساختہ’’الامان والحفیظ‘‘ منھ سے نکلتا ہے۔اتنے مبالغے کیے گئے ہیں کہ محققین کو تحقیق کرنے میں بڑی دقت پیش ّئی۔ چنانچہ علامہ ابن خلدون واقعہ کربلا پر پہنچے تو اپنی کتاب کے دو تین صفحے خالی چھوڑ دیے…گویا یہ کہہ کر چھوڑے کہ مجھے کوئی صحیح واقعہ نہیں ملا،جس کو ملے وہ یہاں درج کر لے۔ہندوستان میں یہ سب شور وغل ایران سے ہمایوں بادشاہ کی معرفت پہنچا،اس کے بعد واجد علی شاہ نے اس کو ترقی دی۔آج جو کچھ ہورہا ہے وہ بے شک اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ایک دردمند مسلمان کے منھ سے بے ساختہ نکلتا ہے:’’فلیبک علی الاسلام من کان باکیا‘‘ تعزیہ فی نفسہ جو کچھ ہے وہ مسلمان کے دل کو دکھانے کے لیے کافی ہے،پھر اس کو بازاروں میں لیے پھرنااور یوں پنجتن کے نعرے لگانا: پنج نعرے پنجتنی اک نعرہء حیدری یا علی یا علی اس کے علاوہ ایک رسم مہندی کی ہے،معلوم نہیں امرتسر کے سوا اور جگہ بھی نکلتی ہے یا نہیں۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ میدان کربلا میں امام قاسم کا نکاح رچایا گیا،سات محرم کو انہیں مہندی لگائی گئی،یہ یادگار بھی بشکل جلوس منائی جاتی ہے۔