کتاب: تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں - صفحہ 60
طاقت کے مطابق لکڑی،سونے،چاندی سے بناتے ہیں،اس کو اپنے گھروں میں نہایت تعظیم سے رکھتے ہیں،اس کی پوجا کرتے ہیں،بعضے ہاتھ وغیرہ کا علم بنا کر قبر کے ساتھ باندھ دیتے ہیں،اور ساتویں رات علم کو تعزیہ سے جدا کرکے گشت کے لئے لے جاتے ہیں اور دسویں دن علم مذکور کو سہرے وغیرہ پہنا کر تعزیہ کے ساتھ قبر میں دفن کردیتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے متعلق کیا حکم ہے جو محرم شروع ہوتے ہی پورے تکلفات سے کمروں کو آراستہ کرتے ہیں،آدمیوں کو بلا کر مرثیہ خوانی کرتے ہیں،کربلا کے واقعات سناتے ہیں،مستورات کی بے عزتی کی داستانیں بیان کرتے ہیں،اور ہائے حسین کرتے ہوئے ماتم کرتے ہیں،پھر شیرینی تقسیم ہوتی ہے،کیا یہ لوگ اہل سنت والجماعت ہیں،اور کیا یہ کام جائز ہے،یا کفر اور شرک ہے،یا گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ۔بینوا توجروا الجوا ب:اہل سنت والجماعت وہ آدمی ہو سکتا ہے،جو نبی کریم اور صحابہ کرام کی راہ پر چلتا ہو،اور یہ تمام امور جو سوال میں مندرج ہیں نا مشروع حرکات ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام اور ایماندراروں کی راہ یہ نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہیں،جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’جو ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول کی نافرمانی کرے اور ایمانداروں کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے تو جدھر جاتا ہے جائے ہم اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بدترین جگہ ہے۔‘‘ امام بیضاوی کہتے ہیں کہ ’’اس آیت سے اجماع کی مخالفت کی حرمت معلوم ہوتی ہے‘‘ اور ایسے لوگ اہل سنت کا دعویٰ کرنے میں بالکل جھوٹے ہیں،شریعت مطہرہ کے دائرہ سے خارج ہیں،ایسے لوگوں کی کوئی عبادت قبول نہ ہوگی۔