کتاب: تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں - صفحہ 51
بدعت وحرام لکھتے ہیں،پھر تعزیہ بنانا کیوں کر جائز ہوگا۔قال النبی صلی اللّٰهُ علیہ وسلم:لاَ تَتَّخِذُوْا قَبْرِیْ عِیْداً،اھ۔وقال النبی صلی اللّٰهُ علیہ وسلم:لَعَنَ اللّٰهُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔أخرجہ البخاری۔ مولانا عبد الحی رسالہ اسلمی سے نقل فرماتے ہیں:من الأوھام تقرر حکم شئی بشبیہہ،وھذا الوہم قد أضل عبدۃ الأصنام من طریق الصواب وأوقعھم فی ھاویۃ الجہالۃ . اھ(ص:۱۱۰ج۲)شامی میں ہے:قال فی الدر:ولبس ثوب فیہ تماثیل ذی روح۔اھ۔فی رد المحتار أقول والظاھر أنہ یلحق بہ الصلیب وان لم یکن تمثال ذی روح لأن فیہ تشبہا بالنصاری،ویکرہ التشبہ بہم فی المذموم وأن لم یقصدہ کما مر۔اھ(ص:۶۷۷ ج۱)اور ظاہر ہے کہ تعزیہ بھی صلیب سے کم نہیں،اس لئے اس کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے،اور مسجد میں اس کا رکھنا حرام ہے،لأن المسجد لم یبن لہذا،وإنما ھو لعبادۃ اللّٰهِ وحدہ۔واللّٰهُ أعلم۔ حررہ الأحقر ظفر احمد تھانوی ۲۰؍صفر ۴۱ھ ؁ مقیم خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون الجواب صحیح:اشرف علی (امداد الاحکام:۱؍۱۸۱-۱۸۲)ناشر زکریا بک ڈپو،دیو بند