کتاب: تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں - صفحہ 49
منعقد کرنا اور اس میں شرکت کرنا سب ممنوع ہے،چنانچہ مطالب المومنین میں صاف منع لکھا ہے اور قواعدشرعیہ بھی اس کے شاہد ہیں،اور یہ تو اس مجلس کا ذکر ہے جس میں کوئی مضمون خلاف نہ ہو،اور نہ وہاں نوحہ و ماتم ہو۔اور جس میں مضامین بھی غلط ہوں یا بزرگوں کی توہین یا نوحہء حرام ہو،جیسا کہ غالب اس وقت میں ایسا ہی ہے تو اس کا حرام ہونا ظاہر ہے۔اور اس سے بد تر خود شیعہ کی مجالس میں جاکر شریک ہونا،بیان سننے کے لئے یا ایک پیالہ فیرینی اور دو نان کے لئے۔ (اصلاح الرسوم از حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ،ص:۱۳۵ - ۱۴۰ جسیم بکڈپو۔دہلی) مولانا ظفر احمد تھانوی مولانا ظفر احمد تھانوی کا درج ذیل فتوی جس پر مولانا اشرف علی تھانوی کی تصدیق بھی ہے ملاحظہ ہو: تعزیہ بنانے اور اس کو مسجد میں رکھنے کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حنفی عقیدہ اہل سنت والجماعت کے مذہب میں تعزیہ بنانا یا اپنے مکان میں رکھنا اور اس پر منت اور چڑھاوا چڑھانا کیسا ہے،اور کس درجہ کا گناہ ہے،اور جس مسجد میں تعزیہ رکھا جاتا ہے اس میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟اور جو لوگ باوجود جاننے کے اس کے معاون اور مددگار ہوں ان سے کس قسم کا برتاؤ کیا جائے ؟بینوا توجروا۔