کتاب: تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں - صفحہ 45
صاحب اس کو حضرت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبت ہوگئی اور ان کا نام لگ گیا،اس لئے تعظیم کے قابل ہوگیا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ نسبت کی تعظیم ہونے میں کوئی کلام نہیں مگر جب کہ نسبت واقعی ہو۔مثلا:حضرت امام حسین کا کوئی لباس ہو یا اور کوئی ان کا تبرک ہو،ہمارے نزدیک بھی وہ قابل تعظیم ہیں۔اور جو نسبت اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہو وہ ہرگز اسباب تعظیم سے نہیں،ورنہ کل کو کوئی خود امام حسین رضی اللہ عنہ ہونے کا دعویٰ کرنے لگے تو چاہئے کہ اس کی اور زیادہ تعظیم کرنے لگو حالانکہ بالیقین اس کو گستاخ وبے ادب قرار دے کر اس کی سخت توہین کے درپے ہوجاؤ گے،اس سے معلوم ہوا کہ نسبت کا ذبہ سے وہ شئے معظم نہیں ہوتی،بلکہ اس کذب کی وجہ سے زیادہ اہانت کے قابل ہوتی ہے اس بنا پر انصاف کرلو کہ یہ تعزیہ تعظیم کے قابل ہے یا اہانت کے۔ (۲). معازف ومزامیر کا بجانا جس کی حرمت حدیث میں صاف صاف مذکور ہے اور باب اول میں وہ حدیث لکھی گئی ہے اور قطع نظر خلاف شرع ہونے کے عقل کے بھی تو خلاف ہے۔معازف ومزامیر تو سامان سرور ہیں،سامان غم میں اس کے کیا معنی،یہ تو در پردہ خوشی منانا ہے۔بر چنیں دعوائے الفت آفریں۔ (۳). مجمع فساق وفجار کا جمع ہونا،جس میں وہ فحش واقعات ہوتے ہیں کہ ناگفتہ بہ ہیں۔ (۴). نوحہ کرنا جس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لعنت فرمائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والے اور اس کی طرف کان لگانے والے کو۔روایت کیا اس کو ابو داود نے۔ (۵). مرثیہ پڑھنا،جس کی نسبت حدیث میں صاف ممانعت آئی ہے۔ابن