کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 90
رسول اللہ میں موجود ہے ،لہذا سنت کا وہ بیان قرآن مجید کا بیان قرار پائے گا (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید ہی کو[تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ] فرمایا ہے) عقلی دلیل: واضح ہو کہ مذکورہ قاعدہ یعنی اسماء وصفات کے اثبات کیلئے دلیل یا تو کتاب اللہ یا سنتِ رسول اللہ ہے،اور یہ کہ اس اثبات میں عقل کو کوئی دخل نہیں ،اس کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے کسی صفت کا اثبات واجب ہے اور کسی کا ممتنع۔یہ امورِغیبیہ میں سے ہے جس کا عقل کے ذریعہ ادارک ممکن نہیں ہے ،لہذا اس سلسلہ میں کتاب وسنت کی طرف رجوع اورارتکاز وافتقارواجب ٹھہرا۔ دوسرا قاعدہ قرآن وسنت کے نصوص کے سلسلہ میں ایک ضروری اور اہم قاعدہ یہ ہے کہ انہیں ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور کسی قسم کی تحریف کا ارتکاب نہ کیاجائے بالخصوص اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل نصوص کیلئے (تو یہ قاعدہ اچھی طرح قلوب واذہان میں راسخ کرلیا جائے) کیونکہ صفات میں عقل ورائے کی کوئی جگہ نہیں ۔ اس قاعدہ پر نقلی وعقلی دلائل موجود ہیں۔ نقلی دلائل : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۝۱۹۳ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۝۱۹۴ۙ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ۝۱۹۵ۭ ][1] [1] الشعراء:۱۹۵-۱۹۳