کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 36
ناموں کو،ان سے معانی سلب کرکے مانا۔چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ’’سمیع‘‘ ہے لیکن بلاسمع۔ ’’بصیر‘‘ہے، لیکن بلا بصر۔’’عزیز‘‘ ہے،لیکن بلاعزۃ …وھکذا۔یعنی سمیع ہے ،لیکن سنتا نہیں،بصیر ہے،لیکن دیکھتا نہیں،اور عزیز ہے، لیکن غلبہ حاصل کرنے والانہیں۔ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ ان اسماء کے اندر پائے جانے والے معنی یا صفت کا ثبوت تعددِ قدماء کو مستلزم ہے …لیکن یہ علت،علیل یعنی مریض بلکہ میت ہے؛ کیونکہ قرآن وحدیث اورعقل سب کے سب اسے باطل قرار دیتے ہیں…جہاں تک قرآن وحدیث کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے باوجودیکہ وہ ’’الواحدالاحد‘‘ (اکیلا) ہے ،مگر اپنے آپ کو بہت سی صفات کے موصوف ہونے کے طور پر ذکر فرمایا،مثلاً فرمایا: [اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ۝۱۲ۭ اِنَّہٗ ہُوَيُبْدِئُ وَيُعِيْدُ۝۱۳ۚ وَہُوَالْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ۝۱۴ۙ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُ۝۱۵ۙ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۝۱۶ۭ ][1] ترجمہ:یقینا تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔وہ بڑا بخشش کرنے والااور بہت محبت کرنے والا ہے۔عرش کا مالک عظمت والا ہے۔جوچاہے اسے کرگزرنے والاہے۔ نیز فرمایا:[سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى۝۱ۙ الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى۝۲۠ۙ وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَہَدٰى۝۳۠ۙ وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۝۴۠ۙ فَجَعَلَہٗ غُثَاۗءً اَحْوٰى۝۵ۭ ][2] ترجمہ: اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر۔جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم [1] البروج:۱۶-۱۲ [2] الاعلیٰ:۵-۱