کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 207
چھونا یا دائیں بائیں موجود ہونا ضروی نہیں ہے ۔جب سیاقِ کلام کے پیشِ نظر’’ مع ‘‘کے کسی معنی کو مقید کیاجائے گا تو اسی معنی کی مقارنت مراد ہوگی۔ کہا جاتا ہے:’’مازلنا نسیر والقمر معنا اوالنجم معنا‘‘ ہم چلتے رہے اور چاند ہمارے ساتھ رہا،یافلاں ستارہ ہمارے ساتھ ساتھ رہا۔اسی طرح اپنا سامان اگرچہ آپ نے اپنے سر کے اوپر اٹھارکھا ہو مگر آپ کہتے ہیں: ’’ھذا المتاع معی‘‘ (یہ سامان میرے ساتھ ہے) لہذااللہ تعالیٰ حقیقتاً ا پنی خلق کے ساتھ بھی ہے اور حقیقتاً اپنے عرش کے اوپر بھی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنی خلق کے ساتھ معیت کی حقیقت اس امرکی متقاضی ہے کہ وہ اپنی خلق کا ازروئے علم،قدرت،سمع،بصر،غلبہ،تدبیر اور دیگر تمام معانیٔ ربوبیت کے ساتھ احاطہ کیئے ہوئے ہے۔ اب یہ معیت اگرسیاقِ عموم میں مذکور ہے تو اس سے کوئی شخص یاوصف مستثنیٰ نہیں ہوگا،بلکہ وہ پوری مخلوق کے ساتھ ہرحال میں ہوگی۔جیسے اللہ تعالیٰ کافرمان: [ وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ۝۰][1] ترجمہ:اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اسی معیتِ عامہ پر مشتمل ہے۔جس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے،تم جہاں بھی ہو…اس سے کوئی فرد ،یااس کی کوئی حالت مخصوص یامستثنیٰ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بھی یہی معیتِ عامہ مذکور ہے: [مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَرَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَسَادِسُہُمْ [1] الحدید:۴