کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 52
کرتے تھے کہ تیرے گھر میں لڑکی ہوگی یالڑکا،اور جو آپ بتلادیتے تھے وہی ہوتا تھا‘‘[1] اسی کتاب میں ایک بزرگ کے سفر حج کے بارے میں لکھتے ہوئے راوی کہتے ہیں: ’’…ابھی مکہ مکرمہ نہ پہنچے تھے کہ اسہال کا مرض لاحق ہوگیا،مکہ مکرمہ میں ایک مرتبہ حاجی امداد اللہ صاحب سے فرمایاکہ میرا جی چاہتا تھا کہ مدینہ منورہ میں موت آئے مگر بظاہر اب میری موت کا وقت قریب آگیا،آپ مراقبہ کیجیے،انھوں نے مراقبہ کیا اور فرمایا کہ نہیں،آپ مدینہ منورہ پہونچ جائیں گے،کچھ روز کے بعد آپ اچھے ہوگئے اور اگلے ہی روز مدینہ منورہ کو روانہ ہوگئے،مدینہ منورہ پہنچنے میں ایک منزل باقی تھی کہ آپ پھر بیمار ہوگئے اور ۱۰/محرم ۱۲۸۳؁ھ مطابق ۵/مئی یوم جمعہ ۱۸۶۶؁ء کو انتقال فرمایا اور نزدیک قبر حضرت عثمان مدفون ہوئے‘‘[2] دلوں کے خطرات اور امور غیبیہ پر مطلع ہونے کے لیے اورادو آداب: دلوں کے خطرات سے واقفیت اور امور غیبیہ پر مطلع ہونے کے لیے کتب تصوف میں باقاعدہ آداب وضوابط ذکر کیے گئے ہیں اور مختلف طرق و وسائل کی رہنمائی کی گئی ہے جن کے ذریعہ ایک صوفی ان احوال و کوائف پر مطلع ہوتا ہے جن پر بجز اللہ کے کوئی اور مطلع نہیں ہوپاتا۔ چنانچہ ’’مخزن المعارف‘‘کے مصنف ’’تصرفات نقشبندیہ‘‘ کے ضمن میں لکھتے ہیں: ’’نمبر ۴ -انکشاف قبر:صاحب قبر کے سرہانے یا جہاں پر جگہ مناسب ہو کھڑاہوکر یا بیٹھ کر اپنے قلب کو خطرات وحدیث نفس سے خالی کرکے اور اپنی روح کو ساتھ روح صاحب قبر کے ملاوے،حالت قبر کی دریافت ہوگی۔ نمبر ۵-کشف خواطر:اپنے قلب کو خطرات وحدیث نفس سے خالی کرکے اس شخص کے قلب کی طرف متوجہ ہو جس کا خطرہ دریافت کرنا ہے۔ نمبر ۶-کشف وقائع آئندہ:بعد دفع خطرات واحادیث نفس کے قلب کو عالم بالا [1] حکایات اولیاء، ص:۱۸۴-۱۸۵۔ [2] حکایات اولیاء، ص:۲۲۱- ۲۲۲۔