کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 50
تمھارے قلب میں ایک عورت کی شبیہ ہے اس کی ناک ایسی ہے اور آنکھیں ایسی ہیں اور بال ایسے ہیں،غرض تمام حلیہ بیان کردیا اس وقت وہ درویش بہت نادم ہوئے اور اقرار کیا کہ بے شک آپ سچ فرماتے ہیں ابتدائے جوانی میں مجھے ایک عورت سے عشق ہوگیا ہر وقت اس کے دھیان میں رہنے سے اس کی شبیہ میرے قلب میں آگئی ہے اب جب کبھی طبیعت بے قرار ہوتی ہے تو آنکھ بند کرکے اس کو دیکھ لیتا ہوں کچھ سکون ہوجاتا ہے اور طبیعت ٹھیر جاتی ہے،مولوی امیر شاہ خاں صاحب یہ قصہ بیان کرکے منتظر رہے کہ حضرت کچھ ارشاد فرمادیں گے مگر حضرت امام ربانی قدس سرہ نے کچھ بھی جواب نہ دیا سن کر خاموش ہوگئے،جب کئی مرتبہ مولوی صاحب نے بات اٹھائی تب حضرت نے ارشاد فرمایا:بھائی یہ کچھ زیادہ غلبہ نہیں ہے کیونکہ ان کو آنکھیں بند کرنے اور قلب کی طرف متوجہ ہونے کی نوبت پہنچتی تھی،میرا حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ برسوں یہ تعلق رہا ہے کہ بغیر آپ کے مشورے کے میری نشست و برخاست نہیں ہوئی حالانکہ حاجی صاحب مکہ میں تھے اور اس کے بعد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی تعلق برسوں رہا ہے‘‘[1] ’’مولانا حبیب الرحمن صاحب نے فرمایاکہ:حضرت نانوتوی میرٹھ میں مثنوی شریف کا درس دے رہے تھے اتفاقاً درس میں کوئی صاحب حال اورصاحب دل بھی آنکلے،انھوں نے جب حضرت مولانا کے عالی مضامین سنے جو مثنوی میں بیان فرمائے جارہے تھے تو بڑی حسرت سے کہنے لگے کہ کاش اس شخص کواس ظاہری علم کے ساتھ باطنی علم بھی ہوتا تو کیا اچھا تھا،اور وہ محض خلوص اورنیک نیتی میں خلوت میں حضرت مولانا کے پاس تشریف لائے اور یہی فرمایا کہ کاش آپ کو باطنی علوم بھی ہوتے،حضرت مولانا نے ازراہ انکسار فرمایا:جی ہاں،میں ایسا ہی محروم ہوں،اگر آپ ہی مجھ پر نظر شفقت فرمادیں تو میری نیک نصیبی ہے،اس پر وہ بزرگ متوجہ ہوکر مراقب ہوئے،ادھر حضرت مولانا بھی ضبط نسبت کے ساتھ مراقب ہوگئے،تھوڑی ہی دیر میں وہ بزرگ ہاتھ جوڑ کر اٹھے کہ مولانا مجھے خبر نہ تھی کہ آپ میں یہ جوہر بھی علی الوجہ الاتم موجود ہے‘‘[2] [1] تذکرۃ الرشید: ۲؍۱۹۶-۱۹۷۔ [2] حکایات اولیاء، ص:۲۵۷۔