کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 44
٭ لا الہ الا اللّٰه،جنید/ چشتی/ صادق/ اشرف علی رسول اللہ کا کلمہ پڑھوانے والوں، ٭ اپنے لیے سجدہ کرانے والوں، اور اس جیسی بے شمار لغویات و ضلالات کا عقیدہ رکھنے والوں کو اگر انکار و احتساب سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور امت کو ان فاسد عقائد و اعمال سے احتراز و اجتناب کی ہدایت نہ کی جائے تو پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیم بے معنی ہوکر رہ جائے گی یا نہیں؟ محبوب الہی،افضل الرسل و افضل الخلق جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کے ساتھ مدینہ سے احرام باندھ کر عمرہ کی غرض سے نکلتے ہیں،مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہونچنے کے بعد روک دیے جاتے ہیں،اور بالآخر طواف کعبہ اور دیگر ارکان عمرہ کی ادائیگی کے بغیر مدینہ واپس آجاتے ہیں مگر خانہ کعبہ ان کی زیارت کرنے حدیبیہ جیسی قریب جگہ بھی نہیں پہونچ پایا،مگر اسی رسول کی امت میں ایسے ایسے بزرگ اور ’’اللہ والے‘‘ پیدا ہوتے ہیں کہ خانہ کعبہ ان کی زیارت اور طواف کو آتا ہے،(نعوذ باللّٰه من الخذلان) شاہ اسماعیل دہلوی کا انتباہ شرعی حدود و ضوابط کو چیلنج کرنے والے اس قسم کے عقائد و اعمال اور اوہام وخرافات کی اس گرم بازاری کو دیکھ کر ہی شاہ اسماعیل شہید نے صراط مستقیم میں لکھا ہے: ’’چوتھا افادہ:مرشد کی تعظیم میں اس قدر افراط کرنا کہ جس سے اس کے خدا یا نبی ہونے کا اعتقاد ظاہر ہو صوفی شعار مشرکوں کی ان بدعات میں سے ہے جو عموماً تمام اہل زمان میں اور خصوصاً ہندوستان کے ملک میں مشہور ہو چکی ہیں،اور اللہ تعالیٰ کے بعض مقبول لوگ بھی اس میں پھنس گئے ہیں،پس ضرور ہے کہ اس امر کی حد اعتدال کو سمجھ لینا چاہیے۔۔۔۔پس مرشد اسی شخص کو بنانا چاہیے جو کسی طرح شریعت کے مخالف نہ ہو اور متابعت قرآن اور