کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 40
﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّٰهِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ﴾[1] (ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑکر اپنے عالموں اور درویشوں کواور مریم کے بیٹے مسیح کو رب بنا یا ہے) تو عدی بن حاتم نے(جو کہ پہلے عیسائی تھے پھر اسلام قبول کیا)کہا کہ اے اللہ کے رسول !مگر ان یہودونصاریٰ نے تو اپنے علماء و صلحاء کی عبادت نہیں کی تھی پھر ایسا کیوں فرمایا گیا؟ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان کے علماء و صلحاء حرام کو حلال یا حلال کو حرام قرار دیتے تھے تو یہ لوگ ان کی پیروی کرتے تھے؟ عدی بن حاتم نے کہا کہ ہاں یہ تو سچ ہے،اس پر آپ نے فرمایا:یہی ان کی عبادت ہے۔[2] امربالمعروف ونہی عن المنکر،خیر کی ترویج اور شر کی تردید امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری اور امتیازی خصوصیت ہے،شر اور منکر کا صدور جہاں سے بھی ہو اسے روکا جائے گا،اس میں یہ امتیاز نہیں کہ عوام کے شر کو شر کہا جائے اور اس سے روکا جائے اور خواص کے شر کو شر کہنا تو درکنار خیر کے روپ میں پیش کیا جائے اور ظاہر و باطن کی تفریق کاسہارا لے کر اسے عین شریعت اور ناقابل انکار حقیقت تسلیم کرایاجائے،ظاہر و باطن کی یہ تفریق بے بنیاداور بلا دلیل ہے۔شریعت کے احکام ظاہری اعتبار ہی سے نافذ کیے جاتے ہیں،باطن کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔لہٰذا جو کام بھی ظاہراً خلاف شرع ہووہ یقینا قابل اعتراض اور موجب تردید ہے،اگر منکر کام پر نکیر کرنے سے محض اس لیے روک لگا دی جائے کہ ہوسکتا ہے باطن میں اس کی کوئی وجہ جواز ہو تب تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیڑا غرق ہوجائے گا اور فواحش و منکرات کی گرم بازاری ہوگی۔یہی وہ غیر اسلامی ذہنیت ہے جو آج بھی ’’من فرق بین الکفر والایمان فقد کفر‘‘(جس نے کفر اور ایمان کے درمیان فرق کیا اس نے کفر کیا)[3] اور ’’انا الحق‘‘ جیسے ملحدانہ نظریات و عقائد کے حامل منصور حلاج کو ’’شہید انا الحق‘‘ کے لقب سے سرفراز کرتی اور اتحاد و حلول کے حامی و [1] سورہ توبہ، آیت نمبر:۳۱۔ [2] سنن ترمذی:۳۰۹۵۔بسند حسن [3] اخبار الحلاج، ص:۴۱، بحوالہ : مطالعہ تصوف، ص:۴۱۸۔