کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 37
’’ایک امیر کی بیوی نے ایک رات گھر سے باہر نکلنے کی اجازت طلب کی،انھوں نے اجازت دے دی مگر اس کے تعاقب میں نکل گئے،دیکھا کی یہ عورت چلتے چلتے ایک پیر کی مجلس سماع میں جا پہنچی جہاں پیر کے ساتھ کچھ اور درویش بھی تھے،اس آدمی نے درویشوں سے عورتوں کی قربت دیکھی تو اسے یہ بات دل میں ناگوار گزری،اور اس نے(دل میں)کہا کہ بھلا بتاؤ یہ لوگ عورتوں کی موجودگی میں سماع کر رہے ہیں،اتنے میں اسے استنجاء کی ضرورت محسوس ہوئی،وہاں سے ہٹ کر ایک جگہ وہ استنجاء کے لیے بیٹھے،کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ جیسی ہے وہ فوراً سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہے،چنانچہ غمزدہ ہو کر حیرانی کے عالم میں وہاں جاکر کھڑے ہوگئے جب سب لوگ چلے گئے تو شیخ نے کہا: ’’درویشوں کے پاس جب عورتیں بیٹھتی ہیں تو ان کی یہی حالت ہو جایا کرتی ہے لہٰذا تم اس وسوسے سے توبہ و استغفار کرو۔‘‘ پھر شیخ نے ان کے لیے دعا فرمائی تو وہ اپنی اصلی حالت پر لوٹ گئے۔‘‘ [1] نبہانی لکھتے ہیں کہ مناوی نے کہا کہ ہمارے شیخ فقیہ عصر رملی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ صوفیہ کے اوپر انکار کرنے والوں میں سے کسی نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے اور بڑی بھاری بھاری دیگیں چڑھائی گئی ہیں ان میں پانی کھولایا جارہا ہے،پانی سے شرارے نکل رہے ہیں ایک جماعت کو لایا گیا اور اس میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ ان کا گوشت اور ہڈی سب جل بھن گئے،اس نے پوچھا کہ ان لوگوں کاکیا معاملہ ہے؟ جواب ملا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ابن عربی اور ابن فارض پر نکیر کرتے تھے۔[2] الغرض اس قسم کے واقعات و حکایات سے تصوف کی کتابیں بھری پڑی ہیں جن کا کسی باب یا کتاب میں یا احصاء کرنا دشوار ہے،ان سب کا ما حصل یہی ہے کہ یہ اولیاء و اصفیاء جو کچھ بھی کریں سب درست ہے،ان کے کسی بھی قول و عمل یا نقل و حرکت پر چوں چرا [1] نشر المحاسن الغالیۃ فی فضل مشائخ الصوفیۃ، ص:۸۷، بحوالہ: دراسات فی التصوف، ص: ۱۴۲-۱۴۳۔ [2] جامع کرامات الاولیاء:۲؍۲۱۸، بحوالہ: وقفات مع کتاب احیاء علوم الدین ، ص:۱۶-۱۷۔