کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 31
پر عمل پیرا ہیں اور ’’مشرب پیران‘‘ کے خلاف ہرگز ہرگز کسی کی پیروی نہیں کرتے،حضرت نظام الدین اولیاء اور دوسرے پیران چشت بھی معاملات میں اکثر امام ابو حنیفہ کی اقتداکرتے ہیں اور حنفی کہلاتے ہیں،لیکن سماع چونکہ احناف کے یہاں حرام ہے،اس لیے اس معاملہ میں اپنے پیروں کے مسلک پر عمل کرتے ہیں اور سماع سنتے ہیں،سماع سننے پر علمائے وقت نے کئی بار احتجاج کیا اور مشائخ چشت سے بادشاہ کے دربار میں جواب طلب کیا گیا،لیکن انہوں نے بالاتفاق یہی جواب دیا کہ ہم اپنے پیروں کے مشرب کی متابعت کرتے ہیں اور اس کے خلاف نہیں کرسکتے۔[1] مشائخ چشت میں پیر کے سامنے سجدہ کرنے کا بھی دستور رہا ہے،ایک دفعہ شیخ نظام الدین اولیاء کی محفل میں سجدہ کا ذکر چھڑا تو انھوں نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو(سجدہ کرنے سے)منع کروں،لیکن چونکہ میں نے اپنے شیخ کے سامنے لوگوں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اس لیے میں منع نہیں کرتا،ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا میرے سامنے سر بسجود ہونا مجھے گوارا نہیں لیکن چونکہ میرے شیخ کے سامنے لوگ ایسا کرتے تھے اس لیے میں منع نہیں کرسکتا،کیونکہ میرے منع کرنے سے دو باتیں لازم آتی ہیں:تجہیل مشائخ اور تفسیق مشائخ۔[2] انیس الارواح یعنی ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی مرتبہ خواجہ معین الدین میں یہ عبارت ہے: ’’حضرت خواجہ معین الدین فرماتے ہیں:خواجہ عثمان ہارونی کی خدمت میں حاضری ہوئی اور فقیر نے پابوسی کے لیے زمین پر سر رکھا‘‘ اس پر کسی سائل نے یہ اشکال پیش کیا کہ زمین پر سر رکھنا ظاہراً سجدہ ہے اور مخلوق کے آگے سجدہ کرنا گوتحیت ہی کا ہو حرام ہے۔ اشکال کے حل کے لیے مولانا اشرف علی تھانوی نے مختلف تاویلوں کاسہارا لیا اور اس کو غلط ثابت ہونے سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے،حالانکہ اس سے پچھلے [1] ملاحظہ ہو: مطالعہ تصوف، ص:۹۱-۹۳۔ [2] ملاحظہ ہو: مطالعہ تصوف، ص:۹۱-۹۳۔