کتاب: تصوف میں شیخ اور تصور شیخ - صفحہ 23
(یعنی گمراہ پجاری اپنے نام نہاد معبودوں سے جھگڑیں گے اورکہیں گے کہ اللہ کی قسم جس وقت ہم تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے تو یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔) تصوف میں پیرومرشد کو مخصوص خدائی صفات سے متصف کرنا جس کی ایک معمولی سی جھلک سطور بالا میں آپ دیکھ چکے ہیں یہ محض ان کے شواذ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے صوفیوں کا ہی طرز عمل نہیں بلکہ مشائخ کو ولایت،نبوت حتی کہ الوہیت تک کے صفات وخصائص سے وابستہ کرنا اس سلسلے کا مرکزی محور ہے۔اہل تصوف کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ یہ شیخ اور پیر ہی وہ ذات ہے جو غائب وحاضر ہر حال میں مرید کی تربیت وتہذیب،اس کی رہنمائی،آلام ومصائب میں اس کی دستگیری اور موت کے بعد اس کی شفاعت کرتی ہے،حیات بشری کے ایک ایک لمحہ میں شیخ مرید کا ’’خضر راہ‘‘ ہوتا ہے،اور ایک مرید اپنے علم وعقل اور انا وخودی سے دست بردار ہوکر شیخ کے سامنے ایسی مکمل خود سپردگی کرتا ہے کہ کسی معاملہ میں وہ صاحب اختیار نہیں رہتا،شیخ کے سامنے مرید کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو غسال کے ہاتھ میں مردہ کی ہوتی ہے کہ وہ جس طرح چاہے اسے الٹتا پلٹتا رہے۔ اس قسم کے اقوال واعتقادات اور عملی مثالیں پیش کرنے سے قبل ہم یہاں کچھ ایسے نمونے پیش کرنا چاہتے ہیں جن سے آ پ اندازہ لگا سکیں گے کہ پیر ومرشد کی عقیدت اور فرط محبت میں اہل تصوف عقل ونقل کی حدود سے اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کا وہاں سے واپس آنا بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے۔إلا أن یشاء اللّٰه۔ مشائخ کے سلسلے میں اہل تصوف کے چند توحید شکن اور غارت گر ایمان عقائد واعمال مشہورصوفی ذو النون مصری سے منقول ہے کہ: ’’طاعۃ المرید لشیخہ فوق طاعتہ لربہ‘‘[1] [1] تذکرۃ الاولیاء، بحوالہ: التصوف بین الحق والخلق، ص:۱۴۵۔