کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 888
اب تک لکھا تیری ہی مدد سے لکھا اور آئندہ بھی ہر کام میں مجھ کو تیری ہی مدد کی ضرورت ہے۔ الٰہی! میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں تیری راہ میں شہید ہو کر جان دوں ، الٰہی بظاہر کوئی ایسا سامان اور ایسا موقع نظر نہیں آتا کہ میں تیری راہ میں لڑ کر مارا جاؤں ، لیکن تو بڑا قادر توانا ہے تو اپنے اس عاجز گناہ گار بندے کو اس کی آرزو میں کامیاب بنا سکتا ہے۔ الٰہی! تیری راہ میں میری گردن کاٹی جائے اور بستر پر ملک الموت میرے پاس روح قبض کرنے نہ آئے۔ الٰہی! تو مجھ کو شہدائے بدر میں شامل کر لے۔ اے میرے اللہ میری اس التجا کو قبول کر لے۔ اللٰھم صل علیٰ سیّدنا و مولانا محمد بعدد کل معلوم لک۔