کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 886
چاہے آپ کا یہ حکم کیسے ہی مصالح ملکی پر بنی ہو، لیکن عالم آخرت میں آپ کے نقصان و زیان اور خسران و ہلاکت کا موجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے پر انعام و بخشش کرتا اور ظالم کو سخت عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ سلطان کو قاضی جمالی کے منشاء کے موافق سب کو معاف و آزاد کرنا پڑا اور نہ صرف ان کو آزاد ہی کیا بلکہ ان کے عہدوں پر ان کو بد ستور مامور کر دیا، اسی طرح ایک مرتبہ سلطان سلیم نے حکم دیا کہ ہمارے ملک سے ایران کے ملک میں ریشم قطعاً نہ جانے پائے، ساتھ ہی ان سوداگروں کو جو قسطنطنیہ میں موجود اور ایران کے ملک میں ریشم لے جانے والے تھے گرفتار کرا لیا، ان سوداگروں کی تعداد چار سو کے قریب تھی، ان کی تمام جائداد ضبط کر لینے اور ان کی گردنیں اڑانے کا حکم ہوا یہ وہ زمانہ تھا کہ سلطان سلیم ایڈریا نوپل کی طرف روانہ ہو رہا تھا اور قاضی جمالی بھی سلطان کے ساتھ تھے، انہوں نے سلطان سلیم سے ان سوداگروں کی سفارش کی سلطان نے جواب دیا کہ دنیا کہ دوتہائی باشندوں کی بہتری اور بھلائی کے لیے ایک تہائی کو قتل کر دینا جائز ہے۔ قاضی صاحب نے کہا اس وقت جب کہ یہ ایک تہائی موجب فساد ہوں ، سلطان نے کہا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا فساد ہو سکتا ہے کہ اپنے بادشاہ کے حکم کی خلاف ورزی کی جائے، قاضی صاحب نے فرمایا کہ ان لوگوں تک حکم سلطانی ابھی تک نہیں پہنچا تھا اس لیے مجرم نہیں قرار پا سکتے، اگر اس قسم کی گفتگو کوئی وزیراعظم کرتا تو وہ فوراً قتل ہو چکا ہوتا، مگر سلطان نے نہایت غصہ کی حالت میں صرف یہ کہا کہ تم معاملات سلطنت میں دخل نہ دو، قاضی صاحب یہ سن کر بہت برہم ہوئے اور بلا آداب بجا لائے اور بلا رخصت طلب کیے ہوئے ناراضگی کے ساتھ چل دیئے اور سلطان سلیم سخت حیرت کے عالم میں خاموش اپنے گھوڑے پر کھڑا رہ گیا، سلطان اپنا سر جھکا لیا اور تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا، پھر حکم دیا اچھا سوداگروں کو رہا کر دیا جائے اور ان کا تمام مال و اسباب واپس دے دیا جائے، اس کے بعد قاضی صاحب کے پاس پیغام بھیجا کہ میں نے آپ کو اپنی تمام مملکت یعنی ایشیا و یورپ کے علاقوں کا قاضی القضاۃ بنا دیا، مگر قاضی صاحب نے اس عہدہ جلیلہ کے قبول کرنے سے انکار کر دیا تاہم سلطان نے ان کے حال پر بہت مہربانیاں کیں ۔ سلطان سلیم کا عہد حکومت دینا میں مذاہب کے لیے بھی خصوصی زمانہ تھا اسی زمانے میں خلافت اسلامیہ خاندان عباسیہ سے نکل کر خاندان عثمانیہ میں آئی اور مجبور نام کے خلفاء کی جگہ صاحب ملک و لشکر خلفائے اسلام میں ہونے لگے، اسی زمانہ میں لوتھرنے عیسائی مذہب میں اصلاح اور عقائد کی ترمیم و تنسیخ کا کام شروع کیا جو درحقیقت عثمانیوں کے یورپ میں داخل ہونے کا نتیجہ تھا اسی زمانہ میں ہندوستان کے اندر کبیرداس نے اپنا ایک پنتھ جاری کر دیا تھا، کبیر گورکھ پور کے قریب بمقام مگھر ۹۲۴ھ میں فوت ہوا تھا،