کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 884
مصر کی اسلامی سلطنت نے چوں کہ شہزادہ جمشید کے معاملہ میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف طاقت کا اظہار کیا تھا اس لیے مصر کا خطرہ بھی ایرانی خطرے سے کم نہ تھا، سلطان سلیم نے مناسب نہ سمجھا کہ مصریوں کو نیچا دکھائے بغیر عیسائی ممالک پر حملہ آور ہو، کیونکہ عیسائی سلاطین مصری سلاطین کو عثمانیہ سلطنت کے خلاف ابھارنے کی کوشش کر سکتے تھے مصر کو فتح کرنے کے بعد سلطان سلیم کے لیے اصل کام یعنی یورپ کو فتح کرنا باقی تھا، سلطان سلیم کی مآل اندیشی دوربینی قابل تعریف ہے کہ اس نے مصر سے واپس آکر عیسائی ممالک پر حملہ آور ہونے میں جلدی نہیں کی، بلکہ سلطنت کے اندرونی انتظام و استحکام میں مصروف ہو کر ساتھ ہی ساتھ جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گیا اور اس حالت میں جس عیسائی بادشاہ نے صلح کی خواہش ظاہر کی فوراً اس سے صلح کر لی، مگر جنگی تیاریاں اس سر گرمی اور عجلت کے ساتھ جاری تھیں کہ اس سے پیشتر ایسی تیاریاں کبھی نہ دیکھی گئی تھیں ۔
مصر سے واپس آکر سلطان سلیم نے جنگی جہازوں کے بننے کا حکم دیا، کئی کارخانے جہاز سازی کے جاری کیے گئے، چنانچہ ڈیڑھ سو جنگی جہاز جن میں سے ہر ایک کا وزن سات سات سو ٹن تھا تیار ہو گئے۔ ان کے علاوہ سو چھوٹے جہاز بھی تیار ہوئے۔ ان جہازوں کو تیار ہونے کے بعد باہر سمندر میں نکلنے اور گشت لگانے کی سخت ممانعت تھی بلکہ تیار ہو کر کارخانے میں ہی بند رکھے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ سلطان نے ایک جنگی جہاز کو ساحل قسطنطنیہ کے قریب سمندر میں گشت لگاتے اور چلتے پھرتے ہوئے دیکھا تو سخت ناراض ہوا اور قریب تھا کہ وہ امیر البحر کو قتل کرنے کا حکم دیتا مگر دوسرے سرداروں اور وزیروں نے بہ مشکل سلطان کے غصہ کو یہ کہہ کر فرو کیا کہ یہ جہاز ابھی تیار ہو کر تکمیل کو پہنچا ہے اور قاعدہ کے موافق اس کو سمندر میں چلا کر دیکھنا اور اس کی رفتار کا اندازہ کرنا ضروری تھا اسی لیے اس کو سمندر میں نکالا گیا ہے۔
جہازوں کے علاوہ سلطان سلیم نے توپوں کے بہت سے کارخانے قائم کیے، بارود سازی کے کارخانے بھی بڑی تیزی اور مستعدی سے اپنے کام میں مصروف تھے، فوجی بھرتی بھی برابر جاری تھی، ایشیائے کوچک میں ایک جدید مسلح فوج اس طرح مستعد رکھی گئی تھی کہ حکم سنتے ہی ایک منٹ کا توقف کیے بغیر کوچ یا جنگ میں مصروف ہو جائے، سلطان سلیم کے وزراء اس بحری و بری طاقت کی روز افزوں ترقی کو دیکھ دیکھ کر منتظر تھے کہ کوئی بہت بڑی مہم پیش آنے والی ہے مگر ان کو مطلق اطلاع نہ تھی کہ یہ تیاریاں کس لیے ہو رہی ہیں ، سلطان سلیم اپنے وزیروں اور مشیروں سے مشورے بھی لیتا تھا، لیکن وہ خاص الخاص اور اہم ارادوں کی کسی کو اطلاع نہ دیتا تھا وہ شتاب زدگی اور جلد بازی کے ساتھ کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا، لیکن جب کوئی ارادہ مصمم کر لیتا تھا تو پھر فسخ عزم کرنا اور قدم پیچھے ہٹانا ممکن نہ تھا وہ اپنے ارادہ کا پختہ