کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 883
کی توسیع چاہی اور سلطان نے اس درخواست کو بلا تامل منظور کر لیا، سلطان سلیم کی فتوحات جو اس کو ایشیا و افریقہ میں حاصل ہوئی تھیں ایسی نہ تھیں کہ ان کا اثر یورپ والوں پر نہ ہوتا، سلطان سلیم نے ایک طرف اپنی حدود سلطنت کو بہت وسیع کیا دوسری طرف خلیفۃ المسلمین ہو جانے کی وجہ سے اس کی عظمت و شوکت میں بہت ترقی ہو گئی تھی، یورپ کے تمام سلاطین لرز رہے تھے کہ یہ ابربارندہ کہیں ہم پر نہ برس پڑے اور یہ برق جہندہ کہیں یورپ میں ہماری خرمن ہستی کو نہ جلا دے۔
سلطان سلیم کے مصر سے واپس آنے کے بعد ہی عیسائی سلاطین نے پیغام صلح بھیجنے شروع کیے اور سفارش کے ذریعے اپنی نیاز مندی کا یقین دلانے لگے، سلطان سلیم اگرچہ بے حد سخت گیر و غضب ناک شخص تھا مگر انتہا درجہ کا مآل اندیش اور دوربین بھی تھا وہ ایسا بیوقوف نہ تھا کہ ان خوشامدی لوگوں کی باتوں میں آکر عواقب امور سے غافل رہتا، وہ عیسائیوں کی شرارتوں اور ریشہ دوانیوں سے خوب واقف تھا، اس نے مصر و شام، حجاز و عراق و مغربی ایران کو اپنی حدود حکومت میں داخل کر کے ایک عظیم الشان شہنشاہی قائم کر لی تھی جو ایشیا و افریقہ اور یورپ تینوں براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی، اس کے بعد اب اس کے لیے یورپی عیسائی ممالک ہی باقی تھے اور وہ ان ملکوں کی فتح کے خیال سے ہرگز غافل نہیں رہ سکتا تھا، جن کی فتح کے لیے اس کے بزرگوں نے مسلسل کوششیں جاری رکھی تھیں ۔ سلطان سلیم کے بزرگوں کی اکثر زور آزمائیاں عیسائی سلاطین کے ساتھ رہی تھیں تمام مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ سلطان اعلیٰ درجہ کا مذہبی شخص تھا اور اس میں دینی غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لیکن حیرت ہوتی ہے کہ سلطان سلیم نے اب تک مسلمانوں ہی سے لڑائیاں کیں اور مسلمانوں ہی کے قبضے سے ملک نکالے، مگر حقیقت یہ تھی کہ سلطان سلیم نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ مسلمانوں کے اندر خالص دینی جذبہ بہت کم ہو گیا ہے اور رذائل نے مسلمانوں کے اخلاق میں دخل پا کر مصالح دینی کو برباد کر دیا ہے۔ تیمور و بایزید کی جنگ اس خطرہ کا سب سے بڑا اعلان تھا، سلطان محمد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے اور عیسائی سلطنت کو مٹا کر ایک حد تک اطمینان کی شکل پیدا کر دی تھی، لیکن پھر بھی ایشیائے کوچک کی بغاوتیں سلاطین عثمانی کو پریشان رکھتی تھیں ، اسمٰعیل صفوی کی ریشہ دوانیوں اور شرانگیزیوں نے سلیم عثمانی کو تخت نشین ہوتے ہی اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا، لہٰذا اس نے سب سے پہلے ایران کی شیعہ سلطنت کو سزا دے کر اور اس کے ضروری صوبوں کو اپنی سلطنت میں شامل کر کے مشرقی خطرے کا بندوبست کیا، اب ایرانیوں کی طرف سے کسی حملہ آوری کا کوئی اندیشہ باقی نہ تھا اور شیعوں کے ایشیائے کوچک میں قتل کرا دینے سے کسی خطر ناک سازش کا بھی اندیشہ نہ رہا۔