کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 881
کرنے اور ان کے قلوب پر قبضہ کرنے کی تھی، چنانچہ سلطان سلیم نے اس مقصد کے حاصل کرنے میں مطلق دھوکا نہیں کھایا اور اس نے احسانات کی بارشوں سے عرب سرداروں کے قلوب کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اس سے پیشتر عرب یعنی حجاز کے شہنشاہ مملوکی سمجھے جاتے تھے اب ان کی حکومت مٹ جانے کے بعد سلطان سلیم ملک حجاز کا بادشاہ سمجھا گیا، لیکن اگر عرب سردار چاہتے تو سلطان کو اپنا بادشاہ تسلیم نہ کرتے اور مقابلہ سے پیش آتے مگر سلطان سلیم کو عربوں پر مہربان دیکھ کر عرب سرداروں نے خود بخود اس کے پاس مبارک باد کے پیغامات بھیجے اور اس کو خادم الحرمین الشریفین کا خطاب دیا، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے مصر میں عباسی خلیفہ مملوکیوں کے پاس اسی طرح شان و شوکت اور اخوت کے ساتھ رہتے تھے، جیسے روما میں پوپ یا دہلی میں اکبر ثانی اور بہادر شاہ آخری سلاطین مغلیہ رہا کرتے تھے۔ ان عباسی خلفاء کی حکومت تو کچھ نہ تھی، نہ کسی ملک پر ان کا قبضہ تھا نہ کوئی فوج ان کے ماتحت تھی مگر نہ صرف مصر کے مملوکی سلاطین بلکہ دوسرے ممالک اسلامی کے فرماں روا بھی ان سے خطابات اور سند حکومت حاصل کرنے کو موجب فخر جانتے تھے اور وہ مذہبی پیشوا سمجھے جاتے تھے۔
سلطان سلیم نے خلفائے عباسیہ کی اس اہمیت اور عہدہ خلافت کے اثر کو بخوبی محسوس کر لیا تھا اس نے مصر کے موجودہ آخری خلیفہ کو اس بات پر رضا مند کر لیا کہ وہ خود ہی عہدہ خلافت سے دست بردار ہو کر ان چند تبرکات کو جن کو وہ بطور نشان خلافت وراثتاً اپنے قبضے میں رکھتا تھا سلطان سلیم کے سپرد کرے اور سلطان سلیم کو مسلمانوں کا خلیفہ مان لے، ان تبرکات میں ایک علم ایک تلوار اور ایک چادر تھی، یہ چیزیں عباسی خلیفہ نے سلطان سلیم کو دے کر اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح مسلمانوں میں ایک نام کے خلیفہ کی جگہ حقیقی معنوں میں خلیفہ موجود ہو گیا، خلیفہ کے معنی درحقیقت مسلمانوں کے سب سے بڑے شہنشاہ اور بادشاہ کے ہیں ، سلطان سلیم کے سوا اس وقت کی اسلامی دنیا میں کوئی شخص خلافت کا مستحق بھی نہ تھا، ۹۲۳ھ کے آخر ایام میں سلطان سلیم مصر سے ایک ہزار اونٹ چاندی سونے سے لدے ہوئے لے کر روانہ ہوا اور آخری عباسی خلیفہ کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔
روانگی کے وقت جب کہ ابھی سلطان کے لشکر نے قاہرہ سے کوچ کر کے چند ہی میل کا فاصلہ طے کیا تھا، سلیم عثمانی نے اپنے وزیر اعظم یونس سے جو اس کی برابر گھوڑے پر سوار باتیں کرتا جا رہا تھا کہا کہ اب بہت جلد ہم سرحد شام میں پہنچ جائیں گے۔ وزیر نے کہا کہ ہم اس سفر میں اپنی نصف فوج ضائع کر کے واپس ہو رہے ہیں اور مصر کا ملک پھر انہی لوگوں کو دیئے جاتے ہیں جن سے اس قدر محنت کے بعد فتح کیا تھا وزیر یونس نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ مصر پر حملہ آور ہو کر ہم نے کیا نفع حاصل کیا، یہ سنتے