کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 880
مندی کے ساتھ مملوکیوں کی طاقت و تعداد کو قائم رکھا اور اپنی طرف سے مملوکیوں کے سردار یعنی غدار خیری بے کو مصر کی گورنری پر مامور کیا اور اجازت دی کہ جس طرح مملوکیوں کی کونسل یا پارلیمنٹ چوبیس سرداروں پر مشتمل ہوا کرتی تھی وہ اب بھی اسی طرح قائم ہو مملوکیوں میں دستور تھا کہ چوبیس مملوکی سردار جو اعلیٰ عہدوں پر مامور ہوا کرتے تھے اپنے سلطان کے فوت یا قتل یا معزول ہونے پر اپنی کثرت رائے سے کسی ایک سردار کو سلطان منتخب کر لیا کرتے تھے، ان سرداروں کی تعداد بد ستور قائم رکھی گئی اور ان کے عہدے بھی بد ستور بحال رہے۔ مگر مصر کا حاکم سلطان عثمانی کی منظوری سے مقرر ہونا تجویز ہوا ساتھ ہی یہ اصلاح بہت ہی معقول کی گئی، کہ قاضی القضاۃ اور مفتی وغیرہ کے تمام مذہبی عہدے عرب سرداروں کے ساتھ مخصوص کیے گئے، روپیہ کی تحصیل و وصولی کا کام اور عہدے قبطیوں اور یہودیوں کو دیئے گئے، اس طرح دو عملی بلکہ سہ عملی انتظام قائم کر کے پانچ ہزار سوار اور پانچ سو پیدل سلطان سلیم نے اپنی فوج میں سے قاہرہ میں تعینات کیے اور خیرالدین نامی سردار کو اس فوج کا سپہ سالار مقرر کر کے حکم دیا کہ شہر قاہرہ اور مرکزی قلعوں پر تمہارا قبضہ رہنا چاہیے اور کسی حالت میں بھی تم کو شہر یا قلعہ میں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اس طرح تمام خطرات کا سد باب ہو گیا۔ سلطان نے قاہرہ کی فتح کے بعد جب جمعہ کا دن آیا تو مصر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کی، سلطان کے لیے پہلے سے نہایت قیمتی قالین مسجد میں بچھا دیا گیا تھا، جب سلطان سلیم مسجد میں پہنچا تو اس نے اس امتیازی مصلے کو فوراً اٹھوا دیا اور عام نمازیوں کی طرح نماز ادا کی اور نماز میں سلطان پر اس قدر رقت طاری ہوئی کہ اس کے آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی، فتح مصر کے بعد سلطان نے مصر سے اعلیٰ درجہ کے معماروں اور صناعوں کی ایک تعداد بذریعہ جہاز قسطنطنیہ روانہ کر دی تھی، جیسا کہ اس نے تبریز سے بھی بہت سے کاریگروں کو قسطنطنیہ بھیج دیا تھا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ سلطان سلیم کی نظر کس قدر وسیع وعمیق تھی اور اپنے دارالسلطنت کی رونق و عظمت بڑھانے کا اس کو کس قدر خیال تھا۔ عجیب تربات یہ ہے کہ مصر میں اس قدر زیادہ مدت رہنے کے باوجود اس نے اہرام مصری کی طرف مطلق التفات نہ کیا نہ ان کی سیر کے لیے گیا، ہاں اس نے مصر کی مساجد اور مدرسوں کی طرف خصوصی توجہ مبذول رکھی، علماء کی عزت بڑھائی ان کے روزینوں میں اضافہ کیا، سلطان نے مصر ہی میں اس بات کو سوچ لیا تھا کہ ملک عرب پر بھی قبضہ و تسلط کا ہونا ضروری ہے۔ ملک عرب کے مقدس شہروں مثلاً مدینہ و مکہ وغیرہ میں عرب سرداروں کی سیادت قائم تھی، ان شہروں میں جنگی نمائش اور فوجی کارروائیوں کی مطلق ضرورت نہ تھی بلکہ سب سے زیادہ ضرورت ان شہروں کے باشندوں کو رضا مند