کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 879
طومان بے کو چھڑانے اور مصر کا سلطان بنانے کے لیے ہو رہی ہے اور طومان بے بہت جلد آزاد ہو کر سلطان سلیم کے لیے سخت خطرے کا موجب بننے والا ہے، چونکہ سلطان سلیم اب تک طومان بے کی وجہ سے سخت مشکلات کا مقابلہ کر چکا تھا اس لیے اس نے فوراً طومان بے کے قتل کیے جانے کا حکم دے دیا اور اس طرح ۱۷ اپریل ۱۵۱۷ء مطابق ۹۲۲ھ مملوکیوں کا یہ آخری سلطان مقتول ہوا۔ طومان بے کے قتل ہونے پر سلطان سلیم کو مصر کی حکومت کے متعلق کوئی خطرہ باقی نہ رہا، لیکن وہ جانتا تھا کہ مصر کو فتح کر لینے کے بعد اس پر قبضہ رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ کئی سو برس سے مملوکی مصر پر فرماں روا تھے، مملوکی مصر کے اصلی باشندے نہ تھے وہ ہمیشہ سرکیشیا و کوہ قاف کے علاقوں سے غلام خرید خرید کر منگاتے اور اپنی تعداد کو پورا رکھتے رکھتے تھے، دوسری طرف عربوں کی تعداد بھی مصر میں اس قدر موجود تھی کہ مصر کا ملک ایک عربی ملک سمجھا جاتا تھا۔ دینی و مذہبی اعتبار سے عربوں کی عزت و سرداری عام طور پر مسلم تھی اور مصر کے عرب باشندے شام و حجاز کے عربوں سے تعلقات رکھنے کے سبب ایک زبردست سیاسی اہمیت تھے۔ مصر میں ان کی نسلیں بھی بڑھ گئی تھیں اور اب وہ ایک حکمران قوم کی حیثیت سے مصر میں کافی اقتدار رکھتے تھے مصر کے قدیم باشندے یعنی قبطی قوم اور یہودی نسلیں بھی زراعت پیشہ اور دفتروں کے حساب کے کاموں پر مامور ہونے کی وجہ سے بہت کچھ اثر رکھتے تھے، ادھر مصر کے مغربی و جنوبی سمتوں کے سرحدی صوبوں اور علاقوں کی قومیں بھی مصر پر چڑھائی کرنے اور قابض ہونے کی استعداد رکھتی تھیں ، اندریں صورت اگر سلطان سلیم کسی گورنر کو مصر کی حکومت پر مامور کرتا تو وہ موقع رکھتا تھا کہ شام و حجاز اور مغربی ممالک کی قوموں کو اپنے ساتھ شریک کر کے خود مختاری کا اعلان کر دے، اگر ایسا حاکم مقرر کرتا جو عالی حوصلہ اور اولوالعزم نہ ہوتا اور بغاوت کا خیال بھی دل میں نہ لا سکتا تو اس سے ملک کے اندر امن و امان قائم نہ رہ سکتا تھا، سلطان سلیم اگر مصر کو فتح کرنے کے بعد فوراً ہی واپس چلا جاتا تو یقینا ملک مصر فوراً اپنی خود مختاری کا پھر اعلان کر دیتا اور دوبارہ سلطان کو پھر اسی قدر زحمت گوارا کرنی پڑتی، سلطان سلیم نے مصر کو فتح کرنے کے بعد مصر میں بہت دنوں قیام رکھا اور یہاں کے حالات کو بغور مطالعہ کرتا رہا اس کا ارادہ تھا کہ طرابلس وغیرہ کی طرف بڑھ کر تمام شمالی افریقہ کو مراکش تک فتح کر لے اگر ایسا ہوتا تو بہت ہی خوب ہوتا کیونکہ پھر اندلس کا فتح کر لینا کوئی بڑی بات نہ تھی مگر اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار کیا اور سلطان سلیم کو مجبوراً قسطنطنیہ کی طرف واپس ہونا پڑا۔ مملوکیوں سے مصر کی حکومت چھین لینے کے بعد سلطان سلیم کے لیے بہت ہی آسان تھا کہ مملوکیوں کی قوم کو مصر سے نیست و نابود کرنے کی کوشش کرتا، لیکن اس نے بڑی دانائی اور نہایت عقل