کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 878
پر روانہ کرنے شروع کیے، اور طومان بے نے ہمیشہ ان کو شکست دے دے کر بھگا دیا، طومان بے کی فوج دو حصوں میں منقسم تھی، یعنی کچھ تو بقیۃ السیف مملوکی اس کے پاس آ گئے تھے اور کچھ عرب قبائل شامل ہو گئے تھے، مملوکیوں اور عربوں کو عثمانیوں یعنی اپنے نئے فاتحوں سے یکساں نفرت تھی اور اسی لیے وہ مل کر عثمانی فوج کے دستوں کو بار بار شکست دے چکے تھے، لیکن خود عربوں اور مملوکیوں کے درمیان بھی رقابت موجود تھی اور یہ سب سے بڑی مصیبت طومان بے کے لیے تھی۔
سلطان سلیم نے طومان بے کی بار بار حملہ آوریوں سے مجبور ہو کر اس کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر تم اطاعت و فرماں برداری کا اقرار کرو تو میں تم کو ملک مصر کا بادشاہ تسلیم کر کے یہاں سے چلا جاؤں گا اور اس ملک کی حکومت تمہارے لیے چھوڑ دوں گا، لیکن سلطان سلیم چوں کہ مملوکیوں کے نہایت محبوب سردار قرط بے کو قتل کرا چکا تھا اور اس نے قاہرہ میں قتل عام کرایا تھا، لہٰذا سلطان سلیم کا سفیر مصطفٰے پاشا جب یہ پیغام لے کر طومان بے کے پاس پہنچا، تو مملوکیوں نے سلیم کے اس سفیر اور اس کے ہمراہیوں کے جوش غضب میں فوراً ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ سلطان کو جب یہ حال معلوم ہوا تو اس نے اس کے عوض تین ہزار قیدیوں کو قتل کرا دیا اور طومان بے کے مقابلہ کو ایک نہایت زبردست فوج مع توپ خانہ روانہ کی۔ طرفین میں اہرام مصری کے قریب جنگ عظیم برپا ہوئی عین معرکۂ جنگ میں مملوکی اور عرب لوگ ایک دوسرے سے لڑ پڑے، ادھر مملوکی عربوں کو اور عرب مملوکیوں کو قتل کر رہے تھے، ادھر عثمانی توپ خانہ دونوں کی صفائی کر رہا تھا لہٰذا طومان بے کی فوج کے برباد ہونے میں وقت کچھ زیادہ صرف نہیں ہوا، اس طرح اس فوج کی بربادی کے بعد طومان بے وہاں سے ایک عرب سردار کے پاس جس پر اس نے بڑے بڑے احسانات کیے تھے چلا گیا، اس محسن کش نے اس بہادر اور شریف مملوکی سلطان کو گرفتار کر کے سلطان سلیم کے پاس بھیج دیا۔
جس وقت سلطان سلیم کے پاس یہ خبر پہنچی کہ طومان بے گرفتار ہو گیا ہے تو اس نے جوش مسرت میں کہا کہ اب مصر کا ملک فتح ہو گیا ہے، جس وقت طومان بے قریب پہنچا تو سلطان سلیم نے اس کا بادشاہوں کی طرح استقبال کیا اور بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ پیش آیا اور نہایت عزت و توقیر کے ساتھ بطور ایک معزز مہمان کے ٹھہرایا، سلطان سلیم کا یہ برتاؤ طومان بے کے ساتھ دیکھ کر خیری بے اور غزالی بے کو سخت فکر ہوئی، یہ دونوں غدار طومان بے کے جانی دشمن تھے، ادھر سلطان سلیم کا یہ ارادہ تھا کہ طومان بے کو بدستور ملک مصر کا بادشاہ بنا کر اس پر احسان کرے اور اس ملک کی حکومت اس کو سپرد کر کے خود قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو جائے، غزالی بے اور خیری بے نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا انہوں نے نہایت چالاکی کے ساتھ سلطان سلیم تک ایسی خبریں پہنچائیں اور پہنچوائیں کہ ایک بڑی زبردست سازش