کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 875
مگر ان میں سے کوئی شخص پیچھے ہٹنے اور بھاگنے کا نام نہ لیتا تھا، یہ لڑائی اس اعتبار سے دنیا کی بے نظیر لڑائی تھی کہ اس میں مملوکیوں نے محض اپنی بہادری کا ثبوت پیش کرنے کے لیے دیدہ و دانستہ اپنے آپ کو توپوں اور بندوقوں کے منہ میں جھونک دیا مگر اس عار کو گوارا نہ کیا کہ بارود کی طاقت بہادروں کی بہادری کو بزدلی سے تبدیل کر سکتی ہے، آخر نتیجہ یہ ہوا کہ پچیس ہزار مملوک رضوانیہ کے میدان میں کھیت رہے اور صرف چند شخص باقی رہے جو باصرار تمام سلطان طومان بے کو اس میدان سے لوٹا کر مقام عضوبیہ کی طرف لے گئے اس لڑائی میں جس قدر مملوک مارے گئے، وہ سب کے سب توپ کے گولوں اور بندوق کی گولیوں سے مرے، لیکن عثمانیہ لشکر کے جس قدر آدمی کام آئے وہ سب تلواروں اور برچھوں سے مارے گئے، کیونکہ مملوکیوں کے پاس قسم کھانے کو ایک بھی بندوق نہ تھی اور وہ بندوق کو ہاتھ لگانا بھی نامردی کی بات سمجھتے تھے، چونکہ سلطان طومان بے میدان رضوانیہ سے مقام عضوبیہ میں چلا گیا تھا اور قاہرہ خالی تھا، لہٰذا جنگ رضوانیہ سے ساتویں روز سلطان سلیم نے آگے بڑھ کر قاہرہ پر قبضہ کیا اس عرصہ میں مملوکی سپاہی جو ادھر ادھر ملک میں منتشر تھے، آ آکر عضوبیہ میں طومان بے کے پاس جمع ہوئے اور ایک مختصر سی فوج پھر طومان بے کے ماتحت فراہم ہو گئی۔ یہ سن کر کہ سلطان سلیم نے قاہرہ پر قبضہ کر لیا ہے، طومان بے نے اس مختصر سی فوج کو لے کر قاہرہ پر حملہ کیا، سلیم احتیاطاً شہر سے باہر اپنے فوجی کیمپ میں مقیم تھا، طومان بے نے دوسری طرف سے یکایک شہر میں داخل ہو کر ترکوں کو جو فاتحانہ شہر پر قابض و متصرف تھے قتل کرنا شروع کیا، اس دار و گیر میں ایک بھی عثمانی سپاہی جو اس وقت شہر کے اندر تھا زندہ نہ بچا سب کے سب قتل کر دیئے گئے اور طومان بے نے شہر پر دوبارہ قابض ہو کر کوچوں ، گلیوں اور شہر کے مکانوں کے ذریعہ مورچہ بندی کی، شہر قاہرہ کی کوئی فصیل نہ تھی جو اس حالت میں مدد پہنچاتی، سلطان سلیم نے اپنی فوج لے کر شہر میں داخل ہونا چاہا، تو ہر ایک گلی کوچہ مورچہ بند اور سد راہ نظر آیا، سلیم کو اب بڑی مشکلات کا سامنا تھا اور ایک ایسا شہر بھی جو اپنی کوئی فصیل نہیں رکھتا فتح نہ ہو سکتا، سلطان سلیم کے لیے بڑی ذلت کی بات تھی اور اس کی شہرت کو یقینا سخت صدمہ پہنچتا اگر وہ قاہرہ کو چھوڑ کر واپس چلا آتا، غرضیکہ یہ ایسا گرم دودھ تھا جس کو نہ نگل سکتا تھا نہ اگل سکتا تھا، تین دن تک برابر قاہرہ کی گلیوں یعنی بیرونی محلوں میں جنگ و پیکار کا بازار گرم رہا مگر سلیم قاہرہ کے کسی محلہ میں اپنے قدم نہ جما سکا سلطان سلیم نے جب دیکھا کہ طومان بے کو قاہرہ سے بے دخل کرنا دشوار ہے اور مشکلات بڑھتی چلی جاتی ہیں تو اس نے مملوکی غدار خیری بے کو جو جنگ رضوانیہ ہی میں اس کے پاس چلا گیا تھا بلوایا اور کہا کہ اب تم ہی کوئی تدبیر بتاؤ، خیری بے نے کہا کہ آپ اب یہ اعلان کرا دیجئے کہ جو