کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 874
ہوتے ہی خیری بے اور غزالی بے دونوں غدار مملوکی سلطان سلیم کے پاس فوراً چلے آئے، توپوں کے گولوں کی بارش اور بندوقوں کی گولیوں کی بوچھاڑ میں مملوکیوں نے اس بے جگری کے ساتھ حملے کیے اور اس طرح حق شجاعت و مرادنگی ادا کیا کہ اس کے بعد شاید کسی کو اس طرح بہادری کے ساتھ جان قربان کرنے کا موقع نہیں ملا ہو گا، طومان بے نے اپنے مملوک شہ سواروں کی ایک جماعت لے کر جو خود و زرہ و جوشن وغیرہ میں سر سے پاؤں تک غرق فولاد تھی ایک حملہ عثمانیوں کے قلب لشکر پر کیا، سلطان طومان بے کے ہمراہ دو اور بہادر مملوکی سردار الان بے اور قرط بے بھی تھے ان دونوں سرداروں نے قسم کھائی کہ ہم سلطان سلیم کو یا تو زندہ گرفتار کر لیں گے، ورنہ اس کو قتل کر دیں گے۔
مملوکیوں کی اس مختصر جماعت کا یہ حملہ ایک زلزلہ تھا، جس نے تمام عثمانی لشکر میں تزلزل برپا کر دیا، مملوکیوں کا سلطان طومان بے اور اس کے مٹھی بھر ہمراہی گویا شیر تھے جو بکریوں کے گلے میں داخل ہو گئے تھے ان لوگوں کو قلب لشکر تک پہنچنے سے عثمانیہ لشکر کی کوئی طاقت نہ روک سکی، کائی سی پھاڑتے اور کشتوں کے پشتے لگاتے ہوئے یہ لوگ ٹھیک اسی مقام تک پہنچ گئے۔ جہاں سلیم کھڑا ہوا اپنی فوج کے مختلف دستوں کو احکام بھیج رہا تھا، مگر حسن اتفاق سے طومان بے نے سنان پاشا کو جو سلیم کے قریب کھڑا تھا سلیم سمجھا اور اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے آتے ہی سنان پاشا کو سلیم کہہ کر للکارا اور ایک ایسا جچا تلا نیزہ کا وار کیا کہ نیزہ سنان پاشا کو چھید کر پار نکل گیا اور بغیر اس کے کہ وہ کوئی خود حرکت کر سکے یا کوئی اس کو بچانے کی کوشش کرے مردہ ہو کر زمین پر گر پڑا، اس طرح الان بے اور قرط بے نے بھی دو اور عثمانی سپہ سالاروں کو قتل کیا مگر سلطان سلیم کو کوئی شناخت نہ کر سکا۔ اس طرح تینوں مملوکی سردار تین عثمانی سپہ سالاروں کو سلطان سلیم کے سامنے عین قلب لشکر میں قتل کر کے صاف نکل گئے اور کسی کی جرائت نہ ہوئی کہ ان کو روک سکے، اپنے پندار میں وہ سلطان سلیم کو قتل کر کے قصہ پاک کر چکے تھے مگر خوبی قسمت سے سلطان سلیم بچ گیا اور میدان کا رزار بد ستور گرم رہا، اس حملہ میں صرف الان بے کے پاؤں میں بندوق کی ایک گولی لگی، جس سے وہ زخمی ہوا مگر کوئی اس کو گرفتار نہ کر سکا صاف بچ کر نکل گیا۔
سلطان سلیم مملوکیوں کی اس بہادری کو دیکھ کر حیران و ششدر تھا اور اپنے دل میں کہتا تھا کہ اگر آج میرے پاس توپ خانہ اور بندوق سے مسلح دستے نہ ہوتے تو مملوکیوں کے مقابلہ میں لشکر کی کثرت فائدہ نہیں پہنچا سکتی تھی، سلطان سلیم نے بڑی ہوشیاری اور مستعدی کے ساتھ برق انداز دستوں اور توپوں کو مصروف کار رکھا، مملوکیوں کی یہ حالت تھی کہ ان کا ایک ایک سردار اپنا ماتحت دستہ لے کر حملہ آور ہوتا تھا اور گولوں اور گولیوں کی بارش میں عثمانیوں کے صف اول تک پہنچنے سے پہلے پہلے یہ سب ختم ہو جاتے تھے