کتاب: تاریخ اسلام جلد دوم (اکبر شاہ) - صفحہ 872
اس کو اس فرصت میں شام کے شہروں پر قبضہ کرنے کا خوب موقع مل گیا اور دمشق و بیت المقدس وغیرہ سب سلطان کے قبضے میں آ گئے۔ جنگ حلب کے بعد کوئی بڑی مزاحمت مملوکیوں کی طرف سے ملک شام میں نہ ہو سکی۔ ادھر قاہرہ میں مملوکیوں نے طومان بے کو اپنا سلطان منتخب کیا اس نے سلطان منتخب ہوتے ہی ایک زبردست فوج مصر و شام کے سرحدی مقام قلعہ غزا کی طرف بھیج دی کہ سلیم کو مصر کی طرف پیش قدمی کرنے سے روکے اور خود قاہرہ کے قریب تمام افواج کو فراہم کرنے میں مصروف ہوا، اس فرصت میں سلطان سلیم کی خوش قسمتی کا دمشق و شام میں یہ اظہار ہوا کہ مصری سلطنت کا ایک بہت بڑا خزانہ جو شہر دمشق میں جمع تھا سلطان کے ہاتھ آ گیا بڑے بڑے شہروں سے جو مال غنیمت سلطان کے ہاتھ آیا تھا اس کے علاوہ صرف دمشق کے اس خزانہ میں ستر لاکھ روپیہ سے زیادہ موجود تھا، یہ خزانہ سلطان کی آئندہ فتوحات کے لیے بہت مفید ثابت ہوا اور سلطان نے اس سے فائدہ اٹھانے اور اس کے صحیح استعمال کرنے میں کسی بخل و کنجوسی کو مطلق دخل نہیں دیا، اہل شام کے قلوب کو اپنی طرف مائل کرنے کی سلطان نے بہت ہی باموقع کوشش کی اور عالموں ، خطیبوں ، درویشوں ، قاضیوں کو انعام و اکرام سے مالا مال کر دیا، مساجد، مدارس، پل اور رفاہ رعایا کے لیے بڑی بڑی رقمیں عطا کیں اور مصر پر حملہ آور ہونے کے لیے بار برداری کے اونٹ اور ہر قسم کا ضروری سامان فراہم کر لیا، مصریوں کی فوج شہر غزہ پر جو مصر کی سرحد سمجھا جاتا تھا آ گئی، ادھر سلطان سلیم اپنی فوج کو لیے ہوئے شام کے آباد اور سر سبز مقامات سے گزرتا ہوا جب ریگستان میں داخل ہونے لگا تو بڑی احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ اونٹوں پر پانی لاد کر ساتھ لیا اور سپاہیوں کو انعامات تقسیم کر کے ان کا دل بڑھایا، سنان پاشا کو توپ خانہ دے کر ایک زبردست حصہ فوج کا سپہ سالار بنایا اور بطور ہر اول آگے روانہ کیا اور خود بقیہ تمام فوج لے کر بڑے اہتمام و انتظام کے ساتھ روانہ ہوا، ریگستان کا سفر دس روز کا تھا جو بحسن و خوبی طے ہوا سنان پاشا نے مقام غزہ میں پہنچ کر مصری فوج کا جو سپہ سالار غزالی کے ماتحت صف آرا تھی مقابلہ کیا، مملوکی لشکر بڑی بے جگری اور بہادری کے ساتھ حملہ آور ہوا مگر سنان پاشا نے اپنی توپوں کو میدان میں جما کر ایسی سخت گولہ باری کی اور اس طرح توپوں میں گراپ بھر بھر کر چلایا کہ مصری لشکر عثمانی لشکر تک پہنچنے سے پہلے ہی میدان میں بھون ڈالا گیا مملوکی توپوں کے استعمال سے ناواقف اور اپنے پاس کوئی توپ خانہ نہ رکھتے تھے اس طرح جب کہ بارود کی طاقت جوان مردوں کے قلب کی طاقت یعنی بہادری پر غالب آ گئی اور میدان عثمانیہ لشکر کے ہاتھ آیا تو ان کے دل بہت بڑھ گئے اور مملوکیوں کی جو ہیبت عثمانیہ لشکر پر چھائی ہوئی تھی یک لخت دور ہو گئی۔